مالی جرمانہ حرام

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس شرعی مسلہ کے جواب میں کہ زید بکر کی بیوی لے کر بھاگ گیا تین دن بعد واپس آیا اور بکر کی بیوی کو بکر کے حوالے کر دیا پھر سماجی طور پر مجرم زید پر سزا کے طور پر 15 لاکھ روپے کا ڈنڈ رکھا گیا اور زید نے وہ ادا بھی کردیا اب امر مطلوب یہ ہے کہ زید کے دیے ہوئے پیسے بکر کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں مفصل و مدلل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع فراہم کیجیے ناچیز محمد جمال الدین اکبری احمد آباد
بسم الله الرحمن الرحيم 
الجواب بالله التوفيق

شریعت میں مالی جرمانہ لینا یہ جائز نہیں ہے جیسا کہ فتوی شامی میں ہے 
وفي الشهر الاثار: التعذىر بالمال كان في ابتداء الاسلام ثم نسخ والحاصل ان المذهب العدم التعذىر باخذ المالي
"اور مشہور آثار میں یہ ہے کہ: مال کے ذریعے تعزیر (یعنی سزا دینا) ابتداء اسلام میں تھا، پھر یہ منسوخ ہوگیا۔ اور حاصل یہ ہے کہ مذہب یہ ہے کہ مال لے کر تعزیر کرنا درست نہیں ہے۔"
شریعت سے متصادم قوانین پر فیصلہ کرنا موجب گناہ ہے ایسے لوگوں کے بارے میں قران کریم میں ہے۔
وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(47)
اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں۔
(سورۃ المائدہ 47)
مالی جرمانہ لینا جائز نہیں ہے اگر کسی مجرم سے بطور جرتنبیہ کہ مالی رقم لی جائے تو وہ رقم مالک کو واپس کرنی چاہیے مالی جرمانہ عائد کرنا یا وصولی کی صورت میں اسے خرچ کرنا یا پرسنل استعمال میں لانا تینوں صورتیں ناجائز ہے 
اور کوئی ایسی صورت اجائے کہ جس میں سزا ہو تو اسلامی حکومت میں صرف قاضی کو یہ حکم ہے کہ وہ سجا منتخب کرے باقی دارالحرب میں اس طریقے سے سجا منتخب نہیں کر سکتے 
دارالحرب میں صرف ہم گناہ کرنے والے کو توبہ کرنے کی ترکیب دے سکتے ہیں اور بار بار ان کو کہنے پر جب نہ مانے تو سماجی بائیکاٹ کر سکتے ہیں باقی اس طریقے سے جرمانہ لینا اور جرمانے کو پرسنل استعمال کرنا یہ دونوں صورتیں ناجائز ہے
*نایب مفتی خیر محمد القادری* دارالافتاء گلزار طیبہ
 *الجواب صحیح*
ابو احمد ایم جے اکبری خادم دارالافتاء گلزار طیبہ*

Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे