مشہور منگھڑت تحقیق
*🌿کچھ مشہور موضوع منگھڑت روایات کی تحقیق🌿*
1️⃣ ایک عورت 4 افراد کو جہنم , میں لے جائے گی،
*یہ روایت موضوع من گھڑت ہے* اس کی کوئی اصل نہیں کتب حدیث میں یہ روایت نہیں ملتی اللہ فرماتا ہے۔
اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى
کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاۓ گی
2️⃣ معراج کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے راز کی بات جس میں نبی علیہ السلام کی طرف نسبت کی جاتی ہے
جو ٹوٹے دلوں کو جوڑے گا بلا حساب جنت میں جائے گا، *یہ روایت کسی حدیث یا کتب معتبرہ میں نہیں*
اس کا بیان کرنا بھی جائز نہیں سلطان المحد ثین امام ملا علی قاری الحنفی رحمہ اللہ، امام الحافظ زین الدین عراقی رحمہ اللہ کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں
قَالَ الْحَافِظ زِينَ الدِّينِ الْعِرَاقِي فِي كِتَابِهِ الْمُسَمی ب "الباعث على الخلاص من حوادث القصاص" ثم إِنَّهُم يَعْنِي القصاص ينقلون حَدِيثه على التسليم من غير معرفة بالصَّحِيحِ والسقيم قَالَ وَإِن اتفق أنه نقل حَدِيثًا صَحِيحا كَانَ آثِما فِي ذَلِكَ لِأَنَّهُ ينقل مَا لَا علم لَهُ بِهِ وَإِن صادف الْوَاقِعَ كَانَ آثِما بإقدامه على مَا لَا يعلم قَالَ وَأَيْضًا فَلَا يحل لأحد مِمَّن هُوَ بِهَذَا الْوَصْف أَن ينقل حَدِيثًا من الكتب بل ولو من الصَّحِيحَيْنِ مَا لم يقرأه على من يعلم ذلك من أهل الحديث
حافظ زین الدین عراقی اپنی کتاب "الباعث على الخلاص من حوادث القصاص" میں فرماتے ہیں۔
"پھر یہ لوگ یعنی قصہ گو واعظین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو نقل کرتے ہیں حالانکہ انہیں صحیح اور سقیم کی پہچان بھی نہیں ہوتی ۔
فرماتے ہیں اگر وہ کسی صحیح حدیث کو اتفاقا نقل بھی کریں تب بھی وہ اس میں گناہ گار ہوں گے ۔
کیونکہ وہ تو وہ چیز نقل کر رہے ہیں۔ جس کا انہیں علم نہیں۔ اگر وہ واقعہ کے مطابق ہو۔ جب بھی وہ گناہ گار ہوں گے۔ کیونکہ وہ تو ایک ایسے فعل کا اقدام کر رہے ہیں۔ جسے وہ جانتے بھی نہیں"
آگے چل کر فرماتے ہیں۔ جو لوگ اس وصف کے ساتھ موصوف ہوں، ان کے لئے یہ بھی حلال نہیں کہ وہ کتابوں میں سے بھی کسی حدیث کو نقل کریں چاہے وہ 📗بخاری و مسلم کی حدیث کیوں نہ ہو جب تک کسی محدث سے اس کی تعلیم حاصل نہ کریں۔ مزید فرماتے ہیں:
قَالَ الذين الْعِرَاقِي وَمن آفات القصاص أن يحدثوا كثيرا من العوام بِمَا لا تبلغه الْعُقُول والأفهام فبلغوا في الاعتقادات السيئة هَذَا لَو كَانَ صَحِيحا فكيف إِذا كَانَ بَاطِلا
زین الدین العراقی فرماتے ہیں اور قصہ گو کی آفتوں میں سے ایک آفت یہ بھی ہے کہ وہ عوام سے اکثر ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جہاں تک نہ تو عقل پہنچ سکتی ہے اور نہ فہم اس کا ادراک کر سکتا ہے۔
تو عوام برے عقائد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ تو صحیح ہونےکی صورت میں ہےتوپھر باطل ہونےکی صورت میں کیاحال ہوگا۔
📚الكتاب الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة ص 44/ ص (65)
3️⃣عالم کی زیارت کرنا ایسا ہے جیسے نبی کی زیارت کی، عالم سے مصافحہ کرنا ایسا ہے جیسے نبی سے مصافحہ کیا، *یہ روایت موضوع من گھڑت ہے* اس کا راوی جھوٹا ہے الزیادات علی الموضوعات صفحہ 📗531
*4️⃣ بے نمازی کو 15 سزائیں دی جائیں گی*
6 دنیا میں
3 موت کے وقت
3 قبر میں
3 قبر سے نکلنے کے بعد
*یہ روایت موضوع من گھڑت ہے،*
📘 قال بن حجر في لسان الميزان ج: 7 ص: 366
محمد بن علي بن العباس البغدادي العطار ركب على أبي بكر بن زياد النيسابوري حديثا باطلا في تارك الصلاة روى عنه محمد بن علي الموازيني شيخ لأبي النرسي)
اور ذہبی فرماتے ہیں
قال الذهبي في الميزان📕 ج 6 ص 264 ركب على أبي بكر بن زياد النيسابوري حديثا باطلا في تارك الصلاة ) انتهى
مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے نماز میں سستی کرنے والوں کے لیے قرآن و حدیث میں سزا وارد ہوئی ہے
*5️⃣ نماز مومن کی معراج ہے یہ حدیث نہیں*
'یہ بات صحیح ہے کہ نماز افضل العبادات ہے اور اللہ سے مناجات کا ذریعہ اور قرب الہی کا سب سے بہترین ذریعہ لیکن یہاں "الصلاۃ معراج المومنین" کے حدیث ہونے نہ ہونے سے بحث ہے ۔ یہ عبارت اگر چہ زبان زدہ عام ہے اور لوگوں کی زبان پر بطور حدیث مشہور ہے۔
لیکن ہماری دانست میں یہ حدیث نہیں ہے بلکہ کسی غیر معروف شخص یا بزرگ کا کلام ہے اور حدیث مرفوع نہیں ہے اور جن کتب میں یہ منقول ہے وہاں بھی اسے بطور حدیث پیش نہیں کیا گیا ہے
اور نہ ہی اس کے حدیث ہونے کی صراحت کی گئی ہے۔
ملا علی قاری حنفی نے مرقاۃ 📙شرح مشکوۃ میں ایک حدیث ذکر کی ہے جس میں نماز کو اللہ سے سرگوشی کا مقام کہا گیا ہے۔ یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
أي: يخاطبه بلسان القال كالذكر والدعاء وبلسان الأحوال كأنواع أحوال الإنتقال ولذا قيل : الصلاة معراج المؤمن۔'
ترجمہ : یعنی وہ زبان قال سے اللہ سے مخاطب ہوتا ہے جیسے ذکر دعا وغیرہ اور لسان صحال مخاطب ہوتا ہے جیسے انتقال کی حالات کی صورتیں اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومنوں کی معراج ہے۔
📗 (مرقاۃ المفاتيح باب المساجد جلد دوم ص 452)
یہاں لفظ قیل بہت اہم ہے اور عربی سے شغف رکھنے والے اس بات کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں
کہ قیل سے عموما قول ضعیف یا کسی عالم یا عام شخص کا قول مراد ہوتا ہے۔
اور یہاں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے
*جب تک یہ بات تحقیق و سند سے ثابت نہ ہو جاۓ اس کی نسبت نبی علیہ السلام کی طرف کرنا جائز نہیں*
6️⃣ جو رشتہ داری میں نکاح کرے گا اس کا بچہ کمزور پیدا ہوگا، *یہ حدیث نہیں،*
البتہ بعض علماء نے اسے حضرت عمر کا قول قرار دیا ہے اسی طرح امام شافعی فرماتے ہیں جو اپنی رشتہ داری میں نکاح کرے گا اس کا بچہ بے وقوف پیدا ہوگا،
واضح رہے یہ اقوال تجربات اور مشاہدے پر مبنی ہیں فی نفسیہ قرآن و حدیث میں رشتہ داری میں نکاح کرنے سے منع نہیں کیا گیا
7️⃣ نبی علیہ السلام کو روح نکالتے وقت تکلیف ہوئی تو عزرائیل علیہ السلام سے سے کہا ساری تکلیف مجھے دے دیں میری امت کو موت کی تکلیف نہ دینا *یہ روایت موضوع من گھڑت ہے اس کی کوئی اصل نہیں* اور اگر بالفرض ہو بھی تو قرآن و دیگر احادیث طیبہ کے خلاف ہوگی
اور اصول یہ ہے ہر وہ روایات جو قرآن کے خلاف ہو اس کو قبول نہیں کیا جاتا
اللہ عزوجل فرماتا ہے،
وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ
اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔،
📚ابن ماجہ حدیث 1451 پر ہے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے،
وہاں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک رشتہ دار پر موت کی شدت طاری تھی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا: تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے ۔
جب اللہ عزوجل نے نبی علیہ السلام کو بتا دیا کہ موت کے وقت تکلیف ہوتی ہے اور خود نبی علیہ السلام ہمیں موت کی سختیوں کے بارے میں خبر دے چکے اور موت کی سختی کی وجہ سے گناہ معاف ہونے کی بشارت دے چکے تو پھر نبی علیہ السلام کیوں خود قرآن اور اپنے ہی کلام و بشارت کے خلاف فرمائیں گے،
یعنی جب قرآن واضح خبر دے چکا کے موت کی سختی ہوتی ہے تو قرآن کے خلاف کیوں فرمائیں گے کہ میری امت کے لوگوں کو تکلیف نہ دینا اور نہ ہی اپنی ان بشارتوں کے خلاف جس میں موت کی سختی پر اجر ملتا ہے گناہ معاف ہوتے ہیں،
اس کے خلاف فرمائیں گے اور کیا یہ واضح تضاد نہیں ایک طرف نبی خود موت کی تکلیف کے بارے میں ہمیں خبر دے رہے ہوں اور اور قرآن بھی بتا رہا ہو کے موت کی سختی ہوتی ہے،
دوسری طرف اس من گھڑت روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عزرائیل علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کیا میری امت کو موت کی تکلیف ہوگی تو وہ جواب دیتے ہیں ہاں ہوگی،
جبکہ قرآن حدیث سے معلوم ہوتا ہے موت کی سختی ہوتی ہیں یہ بات نبی جانتے تھے مگر موضوع روایات میں ظاہر کیا جاتا ہے نبی علیہ السلام کو اس کی خبر ہی نہیں تھی عزرائیل علیہ السلام نے بتایا تو آپ کو معلوم ہوا،
خلاصہ کلام یہ ہے موت کی تکلیف شدت ہوا کرتی ہے حتی کی انبیاء علیہم السلام کو بھی ہوا کرتی ہے
موت کی سختی نہ ہو یہ محال و ناممکن ہے مگر یہ کہ جس پر اللہ کا خاص فضل و کرم ہو
*لہذا مذکورہ روایت کا بیان کرنا ناجائز ہے،*
8️⃣ حضرت علی کے متعلق اونٹنی کی خرید و فروخت والا واقعہ بیان کیا جاتا ہے، *موضوع من گھڑت ہے اس کی کوئی اصل نہیں*
وقد ذكرها الصفوري في "نزهة المجالس" بدون إسناد فقال :" حكاية : ثم ساقها . ونقل الحلبي في "السيرة الحلبية"
📕( 2 /282) أن السيوطي سئل عن هذه القصة فأجاب بأنها من الكذب الموضوع .
9️⃣ نبی علیہ السلام نے اللہ سے عرض کی میری امت کا حساب میرے ہاتھ میں دے دے
*یہ روایت سنداً موضوع ہے*
📙تذکرة الموضوعات للفتنی صفحہ 227
محمد ابن علی اس کا راوی ہے اس کے بارے میں کہا وہ مختلف اسناد کو جوڑ کر روایتیں بناتا تھا امام سیوطی نے کہا یہ روایت اسی نے گھڑی ہے
🔟 صحابئ رسول حضرت علقمہ کا واقعہ ہےکہ ان سے کلمہ بھی نہیں پڑھا جا رہا تھا، یہ واقعہ حدیث کی بعض کتابوں میں ضرور آیا ہے،
*مگر یہ موضوع من گھڑت ہے،* اس واقعہ میں جو جو خرافات اور نسبت صحابی کی طرف کی گئی ہے ہم صحابی سے ہرگز تصور نہیں کر سکتے اور سب سے بڑی بات نبی علیہ السلام کی طرف اس واقعہ میں یہ نسبت کی گئی حضور نے علقمہ کو جلانے کے لیے لکڑی جمع کرنے کا حکم دیا،
اس کے من گھڑت ہونے کی سب سے واضح دلیل یہی ہے
جو نسبت نبی علیہ السلام کی طرف کی گئی حالانکہ اسلام میں انسان کو جلانا ناجائز و حرام ہے،
تو ہم یہ بات نبی سے کیسے تصور کر سکتے ہیں،
*اس کی سند کے ساتھ ساتھ متن بھی موضوع ہے*
📕موضوع روایات پر تحقیق صفحہ 62
1️⃣1️⃣ حضور غوث رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت مردہ زندہ کرنے سے انکار نہیں ہے،
مگر مردہ زندہ کرنے کے متعلق جتنی کرامات بیان کی جاتی ہیں
*یا تو غیر معتبر ہیں یا من گھڑت ہیں،*
بلکہ امام اہلسنت کے خلیفہ دیدار شاہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
*غوث اعظم نے کبھی مردہ زندہ کیا ہی نہیں*
📕فتاویٰ دیداریہ صفحہ 45
2️⃣1️⃣ زنا ایک قرض وہ کرنے والے یا اس کے گھر سے ادا ہوگا اگرچہ اس کی دیواروں سے کیوں نہ ہو
*یہ روایت موضوع من گھڑت ہے* اس کا راوی جھوٹا کذاب ہے
📕الزیادات علی الموضوعات صفحہ 531
3️⃣1️⃣ پناہ مانگتے ہوئے خنزیر کہتا ہے اللہ تو نے مجھے خنزیر بنایا بے نمازی نہیں
*یہ روایت موضوع من گھڑت ہے* کتب حدیث میں یہ روایت نہیں ملتی
🌿*حضرت علی کے منہ پر تھوکا*🌿
4️⃣1️⃣ ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک کافر پر غالب آئے اس نے آپ کے چہرے پر تھوک دیا جس وجہ سے آپ کو غصہ آیا تو آپ نے اس کو چھوڑ دیا کہ اپنی ذات کے لیے قتل کرنا ہوگا، *یہ واقعہ موضوع من گھڑت ہے حدیث کی کتب میں نہیں،* اور نہ ہی کتب معتبرہ میں البتہ شیعوں کی کتابوں میں یہ واقعہ ملتا ہے، تفصیل سے ملتا ہے
مگر اس کے آگے لکھا ہے غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کردیا، شیعوں کی عبارت یہ رہی : أن علياً عليه السّلام يطرح بطل الأبطال على الأرض ويجلس على صدره ليحتز رأسه وهنا بصق عمرو في وجه علي عليه السّلام، فيقوم الإمام عليه السّلام من فوق صدره، ويأخذ بالسير بهدوء بالقرب منه وبعد فترة يعود فيجلس مرة أخرى على صدره ويهم بقطع رأسه فيسأله عمر عن سبب قيامه عليه السّلام أولاً ثم عودته ثانية؟ فماذا كان جواب الإمام عليه السّلام؟ لقد غضب الإمام عندما بصق اللعين في وجهه الشريف، وهنا تركه خشية من أنه إن قتله وهو غاضب فقد يحتمل أن يكون ذلك غضباً لنفسه لا لله، فقام عنه حتى هدأ عليه السّلام وعاد فقتله لله تعالى لا لغيره.
مرقات المفاتیح کی عبارت یہ رہی
وَحُكِيَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَلَبَ عَلَى كَافِرٍ وَقَعَدَ عَلَى صَدْرِهِ لِيَقْطَعَ عُنُقَهُ، فَتَفَلَ الْكَافِرُ إِلَى جَانِبِهِ فَقَامَ عَلِيٌّ عَنْ جَنْبِهِ وَقَالَ: أَعِدِ الْمُبَارَزَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ بَاعِثِ تَرْكِ قَتْلِهِ مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَيْهِ. فَقَالَ: لَمَّا فَعَلْتَ الْفِعْلَ الشَّنِيعَ تَحَرَّكَتْ نَفْسِي فَخِفْتُ أَنْ أَقْتُلَكَ غَضَبًا لَهَا لَا خَالِصًا لِوَجْهِهِ تَعَالَى، فَأَسْلَمَ الْكَافِرُ بِحُسْنِ نِيَّتِهِ وَخُلُوصِ طَوِيَّتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
آپ نے لکھا ہے وہ ایمان لے آیا مگر انہوں بھی اس کی نہ سند ذکر کی نہ کوئی حوالہ نقل فرمایا، یعنی شیعوں کی کتب میں جو واقعہ ملتا ہے اس کا نام عمرود ہے جس نے حضرت علی سے مقابلہ کیا تھا اور اس کو قتل کردیا تھا مگر کتب معتبرہ میں کہیں نہیں ملتا کے اس نے حضرت علی کے منہ پر تھوکا ہو ،
ملا علی قاری نے جو نقل فرمایا اس میں بھی کافر کا ذکر ملتا ہے اس نے تھوکا آپ نے اس کو چھوڑ دیا وہ ایمان لایا ، دونوں واقعات میں تضاد ہے ایک میں ایمان لانا اور ایک میں ایمان نہ لانا مگر دونوں ہی واقعات کتب معتبرہ میں نہیں ملتے
*جب تک کتب معتبرہ سے سند نہ مل جاۓ بیان کرنا جائز نہیں ورنہ بے سند واقعہ کو نبی علیہ السلام کے دور مبارک اور حضرت علی کی طرف منسوب کرنا لازم آۓ گا*
✍️ فقیر عاجز خاکسار دانش حنفی
ہلدوانی نینی
📱+919917420179
Comments
Post a Comment