بچہ کو صف سے ہٹانا ؟فتوی 603

​اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ کے با رے میں 

ایک سات آٹھ سال کا بچہ جو نا بالغ ہے لیکن عقلمند ہے با جماعت نماز پڑھ رہا ہے 

اور پیچھے ایک آدمی آیا اس بچے کو وہاں سے ہٹا کر اسی جگہ کھڑا ہو گیا اور وہاں نماز پڑھی 

تو کیا اسطرح نماز پڑھنا صحیح ہے جواب عطا کریں بڑی مہربانی 

بشیر احمد اکبری سمی پاٹن گجرات 

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

اس طرح کرنا غلط ہے 

 *مفتی امجد علی اعظمی* رحمت اللہ علیہ فرماتے اکیلا مقتدی اگرچہ لڑکا ہو امام کے برابر دہنی جانب کھڑا ہو الخ  (بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 588 ) البتہ صف کی ترتیب یہ ہونی چاہیے پہلے مردوں کی صف ہو پھر بچوں کی اگر بچہ تنہا ہو تو مردوں کی صف میں داخل ہو جائے (بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 590 )  صف کو خالی رکھنا مکروہ تحریمی ہے صورت *مسئولہ* علامہ عبد الستار حمدانی فرماتے ہیں اگر کسی صف میں آٹھ نو برس کا  نابالغ  بچہ تنہا کھڑا ہو گیا ہے یعنی مردوں کی صف کے بیچ میں کوئی ایک نابالغ لڑکا کھڑا ہو گیا ہے تو اسے حالت نماز میں ہٹا کر دو کرنا نہیں چاہے یہ سخت منع ہے  (مومن کی نماز صفحہ 190 )  نابالغ بچہ سمجھدار جو نماز جانتا ہے اگر تنہا ہو تو اسے صف سے دور یعنی بیچ میں فاصلہ چھوڑ کر کھڑا کرنا منع ہے  خلاصہ بچوں کی صف مردوں کی صف کے پیچھے بنائی *جائے*🌹  واللہ اعلم و رسولہ 


کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 


26 اگست 2022

نمک نگڑ گجرات

Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे