افضل صحابہ ابو بکر صدیق

عرضِ مصنف

الحمد للہ ربّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔
*بسم اللہ الرحمن الرحیم* 
جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
(سورۃ الإسراء: 81)
یہ مختصر رسالہ قرآنِ کریم، معتبر تفاسیر اور صحیح احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت کو واضح کرنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ اس تحریر کا مقصد کسی قسم کی مناظرانہ بحث یا دل آزاری نہیں، بلکہ اہلِ ایمان کے دلوں میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت، ادب اور صحیح عقیدہ راسخ کرنا ہے۔

آج کے فتنہ پرور دور میں بعض لوگ اپنی ناقص عقل اور ذاتی ترازو کے ذریعے اُن ہستیوں کے درجات طے کرنے کی جسارت کرتے ہیں جن کے مراتب اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے خود مقرر فرما دیے ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری تھا کہ اہلِ سنت کے مسلمہ، مستند اور متفق علیہ دلائل کو یکجا کر کے پیش کیا جائے تاکہ حق واضح ہو اور باطل کی گرد چھٹ جائے۔

اس رسالے میں خزائن العرفان، نور العرفان، ضیاء القرآن، تبیان القرآن، تفسیر کبیر، الوسیط اور دیگر معتبر تفاسیر و کتبِ حدیث سے وہ نصوص نقل کی گئی ہیں جو صراحت کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے افضلُ الصحابہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ نیز یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عادل، متقی اور جنتی ہیں، اگرچہ ان کے درجات میں فرق ہے، اور یہ فرق خود ربِّ کریم نے بیان فرمایا ہے۔

قارئینِ کرام سے گزارش ہے کہ اس رسالے کا مطالعہ ادب، انصاف اور اخلاص کے ساتھ کریں، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں وہی عقیدہ رکھیں جو قرآن و سنت اور اسلافِ امت کا متفق علیہ عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہؓ کی محبت، ان کے ادب اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور گمراہ کن فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔

وما علینا إلا البلاغ۔

واللہ ولیّ التوفیق

✍️ابو احمد ایم جے اکبری
خادمِ دارالافتاء گلزار طیبہ
=====================تاثرات نوجوان دلوں کی دھڑکن حضرت علامہ مولانا مفتی خیر محمد القادری 
=========
باسمه تعالى 
نحمده نصلي ونسلم على رسوله الكريم اما بعد 
         زیر مطالعہ رسالہ استاد گرامی حضرت علامہ و مولانا مفتی ابو احمد ایم جے  اکبری دامت برکاتہ الحادی کی سعی پہم اور جہد مسلسل کا حسین نتیجہ اور عقائد کا گلدستہ جس میں قوم و ملت کی جانب سے ایی ہویٔ معلومات جو عقائد اور افضلیت صدیق اکبر سے تعلق رکھتی ہیں اس کو بڑی سنجیدگی سے عقائد اہل سنت کے مطابق قران و حدیث کی روشنی میں تحریر کی ہیں جو بڑی ذمہ داری کے ساتھ انجام پجیر ہوتی ہے اس کی اہمیت واقادیت کما حقہ وہی سمجھ سکتا ہے جو اس کام پر مامور ہیں 
      حضرت کی کئی ساری تحریر موجود ہیں عقائد کے معاملے میں حضرت کی  نوک قلم سے نکلنے والی تحریر نے زمانے میں انقلاب برپاکر دیا اور عوام الناس کی کشتی جو گردش ایام کے گہرے سمندر میں ہچولے کھا رہی تھی اسے ساحل سمندر پر لگا دیا مخلوق خدا کی دکھ پر مرہم کا کام کیا عقائد کے معاملات بالخصوص افضلیت صدیق اکبر کو واضح کرنے کے لیے قران اور حدیث پر مبنی ایک رسالہ تحریر کیا ہے جس کا نام افضل صحابہ صدیق اکبر رکھا گیا ہے اس رسالے کے ذریعے حضرت نے عوام اور خواص کی اصلاح کر کہ انہیں ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا ہے عوام ہیں تو  ان کی اولاد کو عقائد کا علم دینا اور اگر خواص ہیں تو ان کے متعلق جتنے افراد اتے ہیں ان کو علم عقائد سکھانا خود نے بھی رسالے میں قران و حدیث کی روشنی میں افضلیت صدیق اکبر کو صاف صاف ظاہر کر دیا ہے اور یہی عقیدہ علمائے مجتہدین کا ہے۔
اللہ تبارک و تعالی اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے میں                              حضرت کی قلم کو مزید توانائی عنایت فرمائے اور دونوں جہاں کے سرفرازی سے انہیں شاد و کام فرمائے۔
امین یا رب العالمین و خاتم النبیین


✍️ خادم اہلسنت ابو رضا خیر محمد حنفی القادری
سورہ الحدید آیت 10 کی تفسیر میں حضرت سید نعیم الدین مرادآبادی خزائن العرفان میں فرماتے ہے' 
شان نزول : کلبی نے کہا کہ یہ آیت حضرت
 ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ آپ پہلے شخص ہیں جو اسلام لائے اور پہلے وہ شخص جس نے راہ خدا میں مال خرچ کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت کی ۔اسی آیت مبارکہ کی تفسیر میں حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی فرماتے 

نور العرفان

 ف 12 ۔ اس میں صحابہ کرام کو ان کی طفیل سارے مسلمانوں کو خیرات و صدقہ کی رغبت دی گئی ہے، یعنی سب کچھ اللہ کا ہے تم عارضی مالک ہو تو اللہ کی راہ میں کیوں خرچ نہیں کرتے۔
ف 13 ۔ شان نزول : یہ آیت ابوبکر صدیق کے حق میں نازل ہوئی (خزائن) آپ نے ہی سب سے پہلے اسلام قبول کیا، سب سے پہلے راہ خدا میں خیرات کی، سب سے پہلے حضور کی خدمت کی اگرچہ نزول خاص ہے مگر حکم عام ہے لہذا اس میں سارے سابقین صحابہ داخل ہیں، جو فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے ۔
ف 14 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی مسلمان صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا، اور کسی مسلمان کا عمل صحابہ کی طرح نہیں ہوسکتا کیونکہ صحابہ کو حضور کی خدمت کا موقع ملا اور ان کے اعمال کی قبولیت کی سند رب کی طرف سے آگئی۔
ف 15 ۔ معلوم ہوا کہ زمانہ اور وقت کے اعتبار سے اعمال کا ثواب زیاہ یا کم ہوتا ہے، رمضان میں نماز و صدقہ اور روزہ کا درجہ زیادہ ہے۔
ف 1 ۔ یعنی اے مسلمانوں اس اختلاف کی وجہ سے تم بعض صحابہ کی تنقیض نہ کرنا، ان کے درجے اگرچہ مختلف ہیں مگر ان سب کا جنتی ہونا بالکل یقینی ہے کیونکہ رب وعدہ فرما چکا ہے اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔ ایک یہ کہ تمام صحابہ عادل و متقی ہیں کیونکہ سب سے رب نے جنت کا وعدہ فرما لیا، جنت کا وعدہ فاسق سے نہیں ہوتا جو تاریخی واقعہ ان میں سے کسی کا فسق ثابت کرے وہ جھوٹا ہے، قرآن سچا ہے، دوسرے یہ کہ جو صحابہ بوقت مشکل خادم رہے ان کا بڑا درجہ ہے، لہذا بی بی خدیجہ صدیق اکبر بڑے درجہ والے ہیں کیونکہ آڑے وقت کے ساتھی ہیں رب فرماتا ہے ثانی اثنین اذھما فی الغار۔(تفسیر نور العرفان)  اسی آیت کی تفسیر میں حضرت پیر کرم شاہ الازہری فرماتے ہے' 
اس آیت میں ان مہاجرین وانصار کے متعلق زبان قدرت یہ اعلان فرما رہی ہے۔ اولئک اعظم درجۃ۔ ان کا درجہ بڑا اونچا ہے ان کا مقام بڑا بلند ہے۔ حضرت صدیق اکبر، حضرت فاروق اعظم، حضرت عثمان ذو النورین، حضرت علی مرتضی (رض) کی قربانیاں اپنی نظیر نہیں رکھتیں۔ اللہ تعالی خود ان کی توصیف فرمارہا ہے۔ قرآن ان کی عطمت کی گواہی دے رہا ہے۔ اب جو لوگ ان پاک لوگوں کی عظمت شان کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا ان پر زبان طعن دراز کرتے ہیں، وہ ذرا سوچیں اور خود ہی بتائیں کہ ان صحابۂ کرام کے بارے میں اللہ تعالی کا فیصلہ حق ہے یا ان کا فیصلہ ہم خدا کی بات مانیں، قرآن کی شہادت کو سچ سمجھیں یا ان کی بات کو۔ یہاں پر علمائے تفسیر نے ایک بڑا ایمان افروز واقعہ لکھا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر تھا۔ حضرت ابوبکر (رض) صدیق بھی وہاں بیٹھے تھے۔ آپ نے عبا پہنی ہوئی تھی اور اس کو آگے باندھا ہوا تھا۔ جبریل امین آئے اور عرض کیا یا نبی اللہ مالی اری ابا بکر علیہ عباءۃ قد خللہا فی صدرہ بخلال۔ اے اللہ کے نبی یہ کیا بات ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں۔ ابوبکر نے ایسی عباء پہنی ہوئی ہے جسے سامنے سے کانٹوں سے بخیہ کیا ہوا ہے۔ حضور نے فرمایا اس نے اپنا سارا مال مجھ پر خرچ کردیا ہے جبریل نے ہا اللہ تعالی آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالی کا سلام ابوبکر کو پہنچائیں اور ان سے پوچھیں کیا یہ اس فقر و تنگ دستی پر خوش ہیں یا ناراض۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدیق کو سلام پہنچایا اور یہ سوال پوچھا۔ اس پیکر تسلیم وضا نے کتنا پیارا جواب دیا۔ عرض کیا۔ اسخط علی ربی۔ انی عن ربی لراض۔ انی عن ربی لراض۔ انی عن ربی لراض۔ یعنی میں اپنے رب پر کیسے ناراض ہوسکتا ہوں میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ میں اپنے رب سے راضی ہوں، میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ میں تجھ پر راضی ہوں جس طرح تو مجھ پر راضی ہے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر (رض) رو پڑے۔ حضرت جبریل نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ ! اس خدا کی قسم جس خدا نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تمام حاملین عرش اسی قسم کی عبائین پہنے ہوئے ہیں اور اسی طرح سے خلال کیے ہوئے ہیں جس طرح کہ آپ کے اس یار نے کیا ہے۔ (قرطبی و دیگر کتب(تفسیر ضیاء القرآن)
اللہ اکبر اور یہ آیت اس پر فیصل ہے۔ کلبی (رح) نے کہا کہ یہ آیت فضیلت صدیق اکبر (رض) میں نص ہے کیونکہ مدار فضیلت انفاق و قتال ہے اور ان دونوں میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) بہت بڑھ کر ہیں لہذا آپ افضل الصحابہ علیہم تضوان ہیں ، آپ سب سے پہلے مسلمان ہیں ، تبلیغ میں اول ہیں کہ معزز عوسائے قریش مثل ، طلحہ، زبیر، عثمان ، سعد، ابوعبیدہ ، عبداکرحمن بن عوف علیہم رضوان آپ کے توسط سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے، سب سے اول مسجد بنانے والے ، غلاموں مثل بلال وعامربن فہیرہ علیہم رضوان کو مال خرچ کرکے آزادی دلوانے والے ہیں ، سب سے اول راہ خدا عزوجل میں ہجرت پر مجبور ہوئے اور شہر مکہ سے نکالے گئے اور ابن الدغنہ کی ضمانت پر لوٹائے گئے۔
مومن آل فرعون تو ایمان کو چھپاتا تھا مگر ابوبکر (رض) اس سے بڑھ کر تھے کہ جمع کفار میں جب ظالموں نے رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلے میں چادر ڈال کردبایا تو ابوبکر (رض) انہیں ہٹاتے اور فرماتے کیا تم اس ذات کے قتل کے درپے ہو جو فرماتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ واضح براہین وآیات کے ساتھ آیا ہے۔ ان کی رفاقت ہجرت پر آیت قرآن ثانی اثنین اذھمافی الغاراذیقول لصاحبہ لاتحزن ان اللہ معنا اور ان کے انفاق پر آیت یؤتی مالہ یتزکیٰ ناطق ہے۔ بحاری (رح) نے ابن زبیر (رض) سے روایت کی ہے کہ قول اسلام کے وقت آپ کے پاس چالیس ہزار دینار تھے جو آپ نے راہ خدا اور رسول میں خرچ کئے، ترمذی میں ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ 
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہ دیا جتنا ابوبکر صدیق (رض) کے مال نے پہنچایا۔ جب ابوبکر صدیق (رض) نے یہ سنا تو روئے اور عرض کیا : انا و مالی لک یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں کیا اور مال ومنال کیا سبھی آپ ہی کا صدقہ تو ہے۔
مسطح بن اثاثہ کی کفالت کا ارادہ ترک کیا تو قرآن نازل ہوا کہ تمہیں کیا محبوب نہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے۔ (سورة نور)
تمام غزوات میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد وہی دوسرے تھے اور غزوۂ جیش العسرت میں تو سارا سب کچھ مال ہی لاکر حاضر کردیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ گھر والوں کے لئے بھی کچھ چھوڑا تو دست بستہ عرض کیا :
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بسصدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس 
میں کہتا ہوں کہ اولاد بھی مال ہی میں شامل ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے اپنی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیاہ دی غرضیکہ کون سی نیکی و فضیلت ہے جو کہ آپ کے دامن میں نہیں ۔(تفسیرالحسنات)
آے اب ہم ایک ایسی شخصیت جو ہر دلعزیز شیخ التفسیر  علامہ سید غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر تبیان القرآن سے پیش کرتے ہے جس سے آج ہونے والے اعتراض ختم ہو جائیں گے 
آپ فرماتے ہے' حضرت ابوبکر (رض) کا افضل الامت ہونا -
 مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے اور اس میں حضرت ابوبکر (رض) کے مقدم ہونے اور ان کی فضیلت پر واضح دلیل ہے۔-
 حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا کہ ہم لوگوں کو ان کے درجہ میں سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٤٨٤‘ مسند ابویعلی رقم الحدیث : ٦٢٨٤)-( اب فیصلہ کرے کہ کسی بھی بزگ کو ان کا وہ درجہ جو اللہ و رسول نے دیا ہے اس کو بڑانے کا یا کم کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں ہے اگر کویی یہ کر رہا ہے تو وہ گمراہ بدمذہب ہے (اکبری) اور سب سے بڑا درجہ نماز کا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیماری کے ایام میں فرمایا :-
 مروا ابابکر فلیصل بالناس۔ ابوبکر سے کہو : وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔-
 (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢١٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨١٤‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٣٨)-
 اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر (رض) امت میں سب سے بڑے درجہ پر فائز ہیں کیونکہ حضرت ابوبکر کو نماز کی امامت کے درجہ میں رکھا اور کسی کو اس درجہ میں نہیں رکھا گیا اور نماز کی امامت کا درجہ سب سے بڑا درجہ ہے -
 امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :-
 یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس نے فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور اللہ کے دشمنوں سے قتال کیا وہ بعد والوں سے بہت زیادہ افضل ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ اسلام کے لیے نمایاں خرچ کرنے والے حضرت ابوبکر تھے اور اسلام کے لیے نمایاں قتال کرنے والے حضرت علی تھے اور اس آیت میں اللہ تعالی نے خرچ کرنے والے کے ذکر کو قتال کرنے والے کے ذکر پر مقدم کیا ہے ‘ اس میں یہ اشارہ ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت علی (رض) پر مقدم ہیں ‘ نیز خرچ کرنا باب رحمت ہے اور قتال کرنا باب  غضب سے ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے :-
 سبقت رحمتی غضبی۔ میری رحمت میرے غضب پر سابق ہے۔-
 (مسند حمیدی رقم الحدیث : ٦٢١١)-اگر یہ اعتراض کیا جائے کی حضرت علی (رض) بھی خرچ کرنے والے تھے کیونکہ ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔-
 ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا۔ (الدھر : ٨) اور جو اللہ کی محبت میں مسکین کو ‘ یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ -
 تو ہم کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کا اسلام کی راہ میں مال خرچ کرنا اسی وقت ثابت ہوگا جب انہوں نے بڑے بڑے مواقع پر بہت زیادہ مال خرچ کیا ہو اور یہ چیز صرف حضرت ابوبکر کے لیے ثابت ہے نیز امام واحدی نے ” البسیط “ میں ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) عنہنے اسلام کے لیے سب سے پہلے قتال کیا ‘ کیونکہ اسلام کے ظہور کی ابتداء میں حضرت علی چھوٹے بچے تھے اور اس وقت وہ قتال کرنے والے نہ تھے اور حضرت ابوبکر (رض) اس وقت شیخ اور مقدم تھے اور اسی وقت وہ اسلام کی مدافعت کرتے تھے ‘ حتی کہ وہ کئی مرتبہ لڑتے لڑتے موت تک پہنچے۔-
 علماء نے کہا ہے کہ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص پہلے اسلام لایا اور جس نے پہلے جہاد کیا اور جس نے فتح مکہ سے پہلے اسلام کی راہ میں خرچ کیا ‘ وہ بعد والوں سے افضل ہے ‘ کیونکہ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کا عظیم موقع حاصل ہوا اور اس نے اس وقت مال خرچ کیا جب مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور کفار کی تعداد بہت زیادہ تھی اور اس وقت مسلمانوں کی مدد اور معاونت کی بہت ضرورت تھی ‘ اس کے بر خلاف فتح مکہ کے بعد اسلام قوی ہوچکا تھا اور کفر بہت ضعیف تھا۔ (تفسیر کبیر ج ٠١ ص ٣٥٤۔ ٢٥٤‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘اس مضمون پر یہ آیت دلالت کرتی ہے :-
والسبقون الاولون من المھجرین والانصار والذین اتبعو ھم باحسان رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ واعدلہم جنت تجری تحتھا الا نھر خلدین فیھا ابدا ط ذلک الفوزالعظیم۔ (التوبہ : ٠٠١) جو مہاجرین اور انصار (اسلام میں) سابق اور اول ہیں اور جن لوگوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی ‘ اللہ ان سب سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور ان کے لیے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہہ رہے ہیں ‘ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی عظیم کامیابی ہے۔ -
 علامہ ابوالحسن علی بن احمد الواحدی النیشاپوری المتوفی ٨٦٤ ھ لکھتے ہیں :-
 محمد بن فضیل نے کہا : یہ آیت حضرت ابوبکر (رض) کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ انہوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنا مال خرچ کیا اور سب سے پہلے اسلام کے لیے قتال کیا۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : انہوں نے سب سے پہلے اسلام کے لے تلوار اٹھائی۔ عطاء نے کہا : جنت کیا مختلف درجات ہیں اور جس نے سب سے پہلے اسلام کے لیے خرچ کیا اور تلوار اٹھائی ‘ وہ لوگ سب سے افضل درجہ میں ہوں گے۔ الزجاج نے کہا : کیونکہ متقدمین نے بعد والوں کی بہ نسبت اسلام کے لیے بہت زیادہ مشقت اٹھائی ہے۔ (الوسیط ج ٤ ص ٦٤٣٢۔ ٥٤٢‘ دارالکتب العلیمہ ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)-
 حضرت ابوبکر (رض) کے فضائل میں
احادیث -
 حسب ذیل احادیث میں حضرت ابوبکر (رض) کے افضل ہونے کی دلیل ہے :-
(١) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنی رفاقت اور اپنے مال سے سب سے زیادہ (دنیا میں) مجھ پر احسان کیا وہ ابوبکر ہیں ‘ اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا ‘ لیکن ( اس کے ساتھ) اسلام کی اخوت اور محبت ہے اور ابوبکر کے دروازہ کے سوا مسجد کے تمام دروازے بند کر دئیے جائیں۔-
 (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٥٦٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٥٦٣‘ سنن دارمی رقم الحدیث : ٠٩١٢‘ مسند احمد ج ١ ص ٠٧٢)-
(٢) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیماری کے ایام میں فرمایا : میرے لیے اپنے باپ ابوبکر اور اپنے بھائی کو بلاؤ‘ تاکہ میں ان کے لیے ایک مکتوب لکھ دوں ‘ کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور یہ کہے گا کہ میں ہی خلافت کا مستحق ہوں اور کوئی نہیں ہے ‘ اور اللہ اور مؤمنین غیر ابوبکر کا انکار کردیں گے۔-
 (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٨٣٢‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٠٦٦٤‘ مسند احمد ج ٤ ص ٢٢٣ )-
صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٨٣٢‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٠٦٦٤‘ مسند احمد ج ٤ ص ٢٢٣ )-
(٣) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بھی ہم پر کوئی احسان کیا ہم نے اس کا بدلہ اتار دیا ‘ سوا ابوبکر کے ‘ کیونکہ ان کے ہم پر ایسی نیکی ہے جس کی جزاء ان کو اللہ قیامت کے دن دے گا اور کسی کے مال نے مجھے وہ نفع نہیں پہنچایا جو ابوبکر کے مال نے مجھے نفع پہنچایا ہے۔-
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٥٥‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٥٣ )-
(٤) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ابوبکر کے ہوتے ہوئے کسی اور کو امام بنائیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٧٣)-
(٥) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبریل آئے ‘ پس انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ‘ پھر انہوں نے مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہوگی ‘ حضرت ابوبکر نے کہا : یا رسول اللہ ! میں چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوں تاکہ آپ کو دیکھتا رہوں ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! تم میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگئے۔-
فضائل صحابہ میں احادیث -
نیز اس آیت میں فرمایا : اللہ نے ان سب سے اچھے انجام کا وعدہ فرمایا ہے۔-
صحابہ میں سے خواہ مقدم ہوں یا موخر ہوں ‘ اللہ تعالی نے ان سب سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے ‘ البتہ ان کے درجات اور مراتب مختلف ہوں گے۔-
(١) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے اصحاب کو برا نہ کہو ‘ کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ جتنا سونا بھی خیرات کردے تو وہ ان کے صدقہ کئے ہوئے ایک کلو یا نصف کلو کے برابر نہیں ہوگا۔-
صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦٧٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٤١‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٥٨‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٨١‘ مسند احمد ج ٣ ص ١١)-
(٢) حضرت ابو بردہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا اور آپ بکثرت آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے ‘ سو آپ نے فرمایا : ستارے آسمان کے لئے امان ہیں ‘ جب ستارے چلے جائیں گے تو آسمان پر اس کی وعید آجائے گی اور میں اپنے اصحاب کے لئے امان ہوں ‘ جب میں چلا جائوں گا تو میرے اصحاب کے پاس وہ چیز آجائے گی جس سے ان کو ڈرایا گیا۔ -
(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٣١)-
خلاصہ کلام 
اپنی عافیت اسی میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملے میں اپنی عقل کا گھوڑا نہ دوڑاے ہر کسی کی بات پر اعتماد کرنا دانشمندی نہیں علماء حق کی بات ہی کو قبول کرے مفتیان عظام سے رابطہ قائم کیجیے اللہ و رسول کے فیصلے کے بعد اب کسی کو کویی حق نہیں ہے کہ ترازو لے صحابہ اکرام کا مرتبہ بتاے جس کا جو مرتبہ اللہ و رسول نے بیان فرمایا ہے وہی حق ہے

Comments

Popular posts from this blog

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

راکھی باندھنا حرام ہے