کونڑں کی نیاز پتنگ بازی

الجواب وباللہ توفیق 
٢٢رجب کو نیاز فاتحہ ایصالِ ثواب کی نیت سے مسلمان کرتے ہیں اس میں شرعاً کویی حرج نہیں ہے اگرچہ بعض علماء نے ٢٢ تاریخ کو  شیعہ لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خوشی میں کھیر پوڑیاں کرتے ہے اس لیے ان سے مشابہت نہ ہو اس لیے ٢٢ تاریخ کو منع کرتے ہے مگر ہمارے نذدیک منع کرنا درست نہیں رسول اللّٰہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہے' تمہارے اعمال کا دارومدار نیت پر ہے (صحیح البخاری حدیث نمبر ١) اور اہلسنت کی نیت صرف ایصالِ ثواب کی ہوتی ہے ہمیں ان رافضیوں کی حرکت سے کیا مطلب البتہ ٢٢ تاریخ کو حضرت امام جعفر صادق اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں بزرگوں کے نام سے فاتحہ خوانی کرنا چاہے 

پتنگ اڑاناایک فضول وعبث کھیل ہے،جس کادینی یادنیاوی اعتبارسے کوئی فائدہ نہیں اور نقصان بے شمار ہیں۔نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مسلمان کے لیے اس طرح کے ہرلہوولعب کھیل کوناجائز قرار دیاہے۔
پتنگ بنانااورفروخت کرناچونکہ اِسی مروجہ  ناجائز و حرام  پتنگ بازی کے گناہ کے لیے متعین ہے کیونکہ پتنگیں فقط  اڑانے کے لیے ہی بنائی اورفروخت کی جاتی ہیں،اس کے علاوہ کسی اورمقصد کے لیے استعمال نہیں کی جاتیں، تو یہ گناہ پر تعاون ہے اور گناہ پر تعاون بھی گناہ ہوتا ہے۔ 

   ہربے فائدہ وفضول کھیل کی ممانعت کے بارے میں المعجم الاوسط میں ہے:”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: كل لهو يكره إلا ملاعبة الرجل امرأته، ومشيه بين الهدفين، وتعليمه فرسه “ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:ہر فضول کام مکروہ ہے، سوائے یہ کہ مردکا اپنی عورت سے کھیلنا(یعنی بیوی سے دل لگی کرنا)اوردو ہدفوں کے درمیان نشانہ لگانا یعنی تیزاندازی کرنا اوراپنے گھوڑے کوشائستگی سکھانا۔    (المعجم الاوسط،ج07،ص170،مطبوعہ دارالحرمین،القاھرہ)

   درمختارو ردالمحتار میں ہے:”وکرہ کل لھو(ای:کل لعب وعبث ،فثلاثۃ بمعنی واحد)۔لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام:کل لھو المسلم حرام الاثلاثۃ:ملاعبتہ اھلہ وتادیبہ لفرسہ ومناضلتہ بقوسہ“ترجمہ:اورہرفضول( یعنی بیکار،بے فائدہ ،پس تینوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں)کھیل مکروہ ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سےکہ مسلمان کاہر کھیل حرام ہے،سوائے تین کھیلوں کے:(1)شوہرکااپنی بیوی سے کھیلنایعنی دل لگی کرنا(2)اوراپنے گھوڑے کوشائستگی سکھانا(3) اورتیراندازی کرنا۔(درمختاروردالمحتار،ج09،ص651،مطبوعہ کوئٹہ)

    فتاوی رضویہ میں ہے:” کنکیا(پتنگ)اڑانے میں وقت،مال کاضائع کرناہوتاہے،یہ بھی گناہ ہے۔“(فتاوی رضویہ،ج24،ص659،مطبوعہ رضافاؤنڈیشن،لاھور)

   احکامِ شریعت میں ہے:” کنکیا(پتنگ)اڑانا لہولعب ہےاورلہوناجائزہے،حدیث میں  ہے:’’ کل لھو المسلم حرام الافی ثلث۔مسلم کے لیے کھیل کی چیزیں سوائے تین چیزوں کے سب حرام ہیں۔“(احکامِ شریعت،حصہ اول،صفحہ58،مطبوعہ مشتاق بک کارنر)

   لوگوں سے ضررکودورکرنے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:’’لا ضرر ولا ضرار،من ضار ضرہ اللہ،ومن شاق شق اللہ علیہ‘‘ترجمہ:نہ ضررلو،نہ ضرردو،جوضرردے اللہ عزوجل اس کوضرردے اورجومشقت کرے اللہ عزوجل اس پر مشقت ڈالے ۔(سنن الدارقطنی،ج4،ص51،
واللہ اعلم ورسولہ 
 *ابو احمد ایم جے اکبری خادم دارالافتاء گلزار طیبہ*

Comments

Popular posts from this blog

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

راکھی باندھنا حرام ہے