مسلمان سے لڑنے والا؟

​السلام علیکم و رحمت اللہ 


ایک شخص نمازی ہے تہجد گزار ہے

 لیکن گاؤ والو سے لڑائ کرتا اور لوگو کو ستاتا ہے اس کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟

Abdul  Rahman 

Bikaner Rajsthan

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

ایسے شخص سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے حدیث میں ہے 

حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاگیا فلانی عورت رات بھرنماز پڑھتی اوردن کوروزہ رکھتی ہے لیکن اپنے پڑوسی کو اپنی زبان سے تکلیف بھی پہنچاتی ہے (ایسی عورت کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں)آپ صلی اللہ علیہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنمی ہے۔صحابہ نے کہااورفلاں عورت صرف فرض نمازیں پڑھتی ہے اورتھوڑاپنیرصدقہ کرتی ہے لیکن اپنے پڑوسی کوتکلیف نہیں پہنچاتی ہے (ایسی عورت کے بارے میںآپۖ کیافرماتے ہیں)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ جنتی ہے۔(مسند احمد2/440،مستدرک حاکم4/166،مجمع الزوائد 8/169،حافظ ہیثمی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں۔)  حضرت بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص مومن کامل نہیں جو طعنہ زنی کرے بہت لعنت کرے بیہودگی سے پیش آئے اور بکواس کرے  (جامع الاحادیث جلد اول باب مومن کی صفت  1) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہ پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے  (جامع الاحادیث جلد اول باب مومن کی صفت 2)  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو خوفزدہ کرے  (الترغیب و الترہب جلد دوم 3 )  اور فرمایا کہ مسلمان کو مت ڈرایا کرو کیونکہ مسلمان کو ڈرانا ظلم عظیم ہے  (الترغیب و الترہب جلد دوم 4 ) 

حضرت بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کی طرف ایسی نظر سے دیکھا جس سے ناحق اسے خوف زدہ کر دیا تو اللہ تعالٰی اسے قیامت کے روز خوف میں مبتلا کر دے گا حضرت بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن بندے کو گالی دینا  (اللہ و رسول ) کی نافرمانی ہے  (الترغیب و الترہب جلد دوم 5) 

حضرت امام غزالی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں 

❀❀❀

باب24:                زبان کی آفا ت

    جان لو!زبان کاخطرہ بہت بڑاہے اوراس کے خطرے سے نجات صرف خاموشی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبئ اکرم،نور مجسم، شہنشاہ بنی آدم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی کی تعریف کی اورخاموش رہنے کی ترغیب دی ۔

    چنانچہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کافرمان عالیشان ہے:

''من صمت نجا

ترجمہ:جوخاموش رہااس نے نجات پائی۔''

 (جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب حدیث من کان یؤمن اﷲ فلیکرم ضیفہ، الحدیث۲۵۰۱،ص۱۹۰۳)

     سید المبلغین، رحمۃ للعلمین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کافرمان عالیشان ہے :

''الصمت حکم وقلیل فاعلہٗ

ترجمہ: خاموشی حکمت ہے اوراسے اختیارکرنے والے کم ہیں۔''

 (شعب الایمان للبیھقی، باب فی حفظ اللسان، فصل فی فضل السکوت عما لا یعنیہ، الحدیث۵۰۲۶،ج۴،ص۲۶۴)

    شہنشاہ نبوت،پیکر جود و حکمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کافرمان ذیشان ہے:

من یتکفل لی مابین لحییہ ورجلیہ اتکفل لہ بالجنۃ

ترجمہ:جوشخص مجھے دوجبڑوں کے درمیان والی چیز( یعنی زبان) اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز( یعنی شرمگاہ)کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔

(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان، الحدیث۶۴۷۴،ص۵۴۳،مفہوما)

    مروی ہے کہ حضرت سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی:'' یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم!مجھے وصیت فرمائیں۔'' آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''اللہ عزوجل کی اس طرح عبادت کرگویا تواسے دیکھ رہا ہے، اپنے آپ کومرنے والوں میں شمارکر،اوراگرتو چاہے تومیں تجھے بتاؤں ،کہ تیرے لئے کون سی چیز بہتر ہے، پھرآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔''

 (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصمت وآداب اللسان، باب حفظ اللسان وفضل الصمت، الحدیث۲۲، ج۷، ص۲ ۴۔۴۳)

    حضرت سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی:''یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم!کیاہماری گفتگوپربھی مؤاخذہ ہوگا؟'' آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''اے ابن جبل!تیری ماں تجھ پر روئے، لوگوں کوان کے نتھنوں کے بل جہنم میں گرانے والی زبان کی کاٹی ہوئی کھیتی (یعنی گفتگو)کے سوا اور کیا ہے۔

 (جامع الترمذی، ابواب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، الحدیث۲۶۱۶،ص۱۹۱۵)    حضرت سیدناانس رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ احد کے دن ہماراایک غلام شہیدہوگیا،ہم نے اسے بھوک کی وجہ سے پیٹ پرپتھرباندھے ہوئے پایا،اس کی ماں نے اس کے چہرے سے گردوغبارصاف کرتے ہوئے کہا: اے بیٹے !تمہیں جنت مبارک ہو۔تونبئ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''تمہیں کیسے معلوم ہوا ؟(کہ یہ جنتی ہے)ہوسکتاہے یہ فضول کلام کرتا ہو اور ایسی گفتگوسے منع کرتاہوجو اسے نقصان نہ پہنچاتی تھی۔'' (احیاء العلوم ) 

(-1-155  ) (2 -156  ) ( 2 رض 486 ) (3 - 365 ) (4 -365 ) 

خلاصہ کلام جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف پہنچائے بغیر کسی وجہ سے وہ سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے اس کو فوراً توبہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور مسلمانوں سے معافی مانگیں اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا بائیکاٹ کیا جائے  واللہ اعلم و رسولہ 

کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

تاریخ 22 مارچ 2022 بروز منگل

Comments

Popular posts from this blog

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

راکھی باندھنا حرام ہے