فیصد پر چندہ کرنا ؟
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کے ابھی رمضان شریف میں بہت سے صفیر چندے کے سلسلے میں آرھے ھیں اور انکے چندہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو بھی چندہ ھوگا اس میں آدھا مدرسے کا اور آدھا صفیر کا اب جو لوگ بچارے اپنی زکات کے پیسے ایسے صفیروں کو دیتے ہیں کیا ان کی زکات ادا ہو جاتی ہے اس معاملے میں کیا طریقہ ہوتا ہے مدرسہ والوں کا رہنماءی فرمائے ( ساءیل محمد صدام حسین قادری بامنور)
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں سفیر کا فیصد پر چندہ کرے تو یہ جائز ہے( فتاوی فقہ ملت جلد اول صفحہ 323 ) میں ہے اگر سفیر فیصد پر چندہ کریں تو اجیر مشترک قرار پائے گا چاہے وہ پچیس یا تیس فیصد پر کریں یا چالیس پچاس فیصد پر کہ ان کی اجرت کام پر موقوف رہتی ہے جتنا کریں گے اسی حساب سے اجرت کے حقدار ہوں گے لہذا ڈبل تنخواہ پر چندہ کرنے والوں کو ڈبل تنخواہ اور فیصد پر کرنے والوں کو جتنا فیصد مقرر ہو اس اعتبار سے اجرت دینا جائز ہے البتہ چندہ کرنے والوں پر ضروری ہے کہ فیصد مقرر کرتے وقت اس کا خیال رکھیں کہ مدارس وغیرہ کو نقصان نہ ہو جتنے میں سفیروں کی ضرورت پوری ہو جائے اسی اعتبار سے فیصد مقرر کریں اس سے زیادہ کی اجازت نہیں اور حیلہ شرعی کے بعد اجرت دینا جائز ہے (فتاوی فقہ ملت جلد اول صفحہ 224 ) واضح رہے کہ مسلمان زکوۃ دینے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کر لے کہ واقعی یہ مدارس دینی ہے یا نہیں اور انھیں ضرورت ہے یا نہیں بعض ایسے مدارس ہے کہ ان کے پاس لاکھوں روپے بچت ہے پھر بھی چندہ کرتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو مدارس کے نام پر دنیاوی تعلیم بھی دیتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہے جو غریب کے بچوں کا داخلہ نہیں ہو پاتا ہے مگر جب کسی سیٹھ سے سفارش کروائی جائے تو داخلہ ہو جاتا ہے ایسے اداروں میں زکوۃ نہیں دینا چاہیے مال لیتے وقت بڑی بڑی باتیں اور جب غریب کو ضرورت ہو تو داخلہ کی گنجائش نہیں واقعی گنجائش نہیں ہے تو اس میں تو کوئی حرج نہیں مگر سیٹھ کی سفارش کے وقت گنجائش کہا سے ہوتی ہے کیا مسلمان تمہیں زکوۃ خیرات اس لیے دیتے ہیں کہ تم دھنی سیٹھ کے لیے جگہ خالی رہے اور غریب کے لیے گنجائش نہیں یہ دو طرفہ رویہ کیوں لہٰذا مسلمانوں سے اپیل ہے کہ اپنی خیرات امداد ایسے مدارس کو دی جائے جس میں کسی کی سفارش کروانے کی ضرورت نہ ہو بالخصوص مدارس کی خدمت تو غریب عوام کے لئے خاص ہونی چاہیے غریب کا بچہ کیسے پڑھے گا واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 6 اپریل 2022 بروز بدھ
Comments
Post a Comment