ایک رکعت قضا کرے گا ؟

​*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*


*علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ*


*عشاء کی فرض نماز کی پہلی رکعت میں امام صاحب نے قرأت بلند آواز میں نہیں کی جب رکوع میں جا رہے تھے تو مقتدی نے لقمہ دیا لیکن امام صاحب لقمہ نہیں لیا اور سجدہ کر کے دوسری رکعت کے لیۓ کھڑے ہو گۓ  مقتدی پہلی رکعت میں کھڑے ہی رہے جب امام صاحب دوسری رکعت کے لیۓ رکوع کیا تب مقتدی بھی امام صاحب کے ساتھ رکوع کیا جب امام صاحب کی چار رکعت مکمل ہو گیا تو امام صاحب سجدہ سہوہ کیا نماز کے بعد امام صاحب نے کہا جس نے میری اقتداء کی اس کی نماز ہو گی جس نے نہیں کی اس کی نماز نہیں ہوئی*


*علمائے کرام جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں*


*سائل محمد اظہر الدین عظیمی پھول توڑا کھگڑیا بہار ہندوستان*


وعلیکم السلام و رحمت ہالہ و برکاتہ 


الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں  امام نے سجدہ سہو کر لیا نماز ہو گئی لیکن وہ مقتدی جو کھڑے ہی رہے  وہ مقتدی اس رکعت کی قضا کریں گے (درمختار باب الامہ ) میں جس کی اقتدہ کے بعد تمام رکعتیں یا بعض رکعتیں فوت ہو جائے کسی عذر کی وجہ سے جیسے کہ غفلت  اور بھیڑ کی وجہ سے اسی طرح رکوع و سجود میں اپنے امام سے سبقت لے جائے تو وہ ایک رکعت قضا کرے گا / اور یہ رکعت جو قضا کرے گا وہ بغیر قرائت کے قضا کرے گا (تنویر الابصار جلد دوم باب الامہ    صفہ ۵۳۰) 


واللہ اعلم و رسولہ 


کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 


دارالافتاء فیضان مدینہ آ ن لائن 


تاریخ ۲۵ مئی بروز بدھ ۲۰۲۲

Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे