بیوی حرام ہو گئی؟
کیا فرماتے ہے علماء کرام اس حدیث کا مطلب کیا ہے قرب قیامت کی نشانیاں میں ایک یہ ہے کہ زنا عام ہو جائے گا ?
الجواب وباللہ توفیق یہ حدیث صحیح آل بخاری رقم الحدیث ۵۲۳۱ ہے 👀 فی زمانہ اس حدیث کے مطابق زیادہ تر لوگ زنا میں مبتلا ہوتے ہے اور انھیں معلوم بھی نہیں ہوتا اس میں دو کام ایسے ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہے ایک کفریہ کلمات اور دوسرا حرمت مصاہرت جس کی وجہ سے عورت نکاح سے نکل جاتی ہے اور مرد کو پتہ ہی نہیں رہتا جس میں نمبر ایک کا مسئلہ تو پھر بھی آسان ہے اس کا علم تو ہر زبان میں مل جائے گا اور آدمی اس سے بچ سکتا ہے دوسرا مسئلہ کچھ پیچیدہ ہے جس کا علم ہر ایک کو نہیں بلکہ بہت سے عالم کو بھی اس کی تفصیل معلوم نہیں وہ مسئلہ ہے حرمت مصاہرت یعنی مصاہرت اس رشتہ کو کہتے ہے ہیں جو نکاح کے ذریعہ قائم ہو اورجسے سسرالی رشتہ بھی کہا جاتا ہے تفصیل کے لئے دیکھے فیوضات رضویہ جلد پنجم مسئلہ مس سے حرمت مصاہرت
کسی عورت کو شہوت کے ساتھ چھونے سے حرمت ثابت ہونے کے سلسلے میں یہ ضروری نہیں ہے کہ قصدا چھوئے (جان بجھ کر ) بلکہ بھول سے چھوئے یا کسی کے زبردستی کرنے سے یا غلطی سے چھوئے یا چاہے نیند کی حالت میں چھوئے ہر صورت میں حرمت ثابت ہو جائے گی جیسے کہ کسی مرد نے ہمبستری کے لئے اپنی بیوی کو نیند سے اٹھانا چاہا مگر غلطی سے اس کا ہاتھ لڑکی پر پڑھ گیا اور پھر یہی سمجھ کر کہ یہ میری بیوی ہے شہوت کے ساتھ اس کی چٹکی بھر لی اور وہ لڑکی بھی جوان تھی قابل شہوت تھی تو اس صورت میں اس مرد کی بیوی اس مرد پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی مسئلہ عورت کو شہوت کے ساتھ چھونا اور ہاتھ لگانا حرمت کو ثابت کر دیتا ہے اس میں یہ بات یاد رہے کہ عورت کو چھونے میں اور ہاتھ لگانے سے اسی صورت میں حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے جبکہ دونوں کے درمیان کپڑا حائل نہ ہو اور اگر کپڑا حائل ہو تو وہ اس قدر بارک ہو کہ چھونے والے کا ہاتھ بدن کی حرارت (گرمی) محسوس ہوتی تو حرمت ثابت ہوگی ،( فیوضات رضویہ جلد پنجم باب حرمت مصاہرت ) فی زمانہ کپڑے ایسی فیشن والے ہوتے ہے کہ جس کی وجہ سے چھونے سے بدن کی گرمی محسوس ہو جاتی ہے اس لئے حرمت ثابت ہو جائے گی فی زمانہ کی فیشن نے جو تباہی برپا کر رکھی ہے وہ سب جانتے ہے مسلمانوں اللہ سے ڑرواور اپنی بہن بیٹی ، بیوی کو ایسے بارک کپڑے نہ پہنائے مسئلہ گجرات میں یہ رواج ہے کہ داماد ساس کے ہاتھ کو بوسہ دیتا ہے جو کہ حرام ہے اور اگر ساس جوان ہے اور داماد نے بوسہ دیا اور معاذ اللہ شہوت ہو گئی تو اس کی بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی اس لئے اس چیز کا خاص خیال رکھا جائے ساس یا بیٹی کو بائک پر اپنے پیچھے ہرگز نہ بٹھائے کہ چلتی بائک پر اکثر پیچھے بیٹھنے والا اگلے پر ٹچ ہو جاتا ہے اور ایسے میں معاذ اللہ اگر مرد کو شہوت پیدا ہو گئی تو بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی اگر سخت مجبوری میں بیٹی یا ساس کو بائک پر بٹھانا پڑے تو بیچ میں کوئی چوٹا بچہ کو بیٹھا دے تاکہ اس کے جسم سے یعنی بیٹی یا ساس کا جسم ٹچ نہ ہو ، قاضی خاں میں ہے اگر کپڑا پتلا تھا کہ اس جگہ کی حرارت (گرمی) اور نرمی کا احساس ہوا تو حرمت ثابت ہو جائےگی اور حرمت کے سلسلے میں عورت کا مرد کو چھونا اسی طرح ہے جس طرح مرد کا عورت کو چھونا (یعنی مرد عورت کو چھوئے یا عورت مرد کو چھوئے شہوت کے ساتھ تو حرمت ثابت ہو جائے گی) اگر کسی عورت کو سوار کرایا یا اتارا اور ان کے درماین۔ موٹا کپڑا تھا تو حرمت ثابت نہیں ہوگی (اگر کپڑا پتلا تھا اور دونوں میں سے کسی ایک کو شہوت ہو گئی تو حرمت ثابت ہو جائے گی ) (فتاوی قاضی خان جلد دوم صفہ ۱۰۳) یہ مسئلہ ہر مسلمان کو جاننا ضروری ہے کہی بار ان جانے میں یہ کام ہو جاتا ہے اور آدمی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی ہے اور پھر جب وہ ہمبستری کرتا ہے تو یہ زنا ہے یہی مطلب اس حدیث کا بھی ہے کہ زنا عام ہو جائے گا مسلمانوں ضروریات زندگی کا علم حاصل کرنا آپ پر فرض ہے اپنے گھر والوں کو اسلامی لباس کا پابند کرے بائک پر بیٹی کو بیٹھا نے سے گریز کرے سخت ضرورت پر موٹے کپڑے پہنا کر بیٹھائے اور بیچ میں کوئی چھوٹا بچہ کو بیٹھائے تاکہ شیطان کے فریب سے محفوظ ہو واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آن لائن
Comments
Post a Comment