ہندہ کی بیٹی سے نکاح؟
السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلہ میں زید اور بکر دونوں سگے بھائ ہے بکر بڑا بھائ زید چھوٹا بھائ اور بکر کا انتقال ہوگیا بکر کی عورت عدت گزانے کے بعد زید سے نکاح کیا جو بکر کا چھوٹا ہے اب سوال یہ کہ زید نے اپنی بچی کا رشتہ بکر کے لڑکے کے ساتھ کیا زید نکاح ہوا یا نہی اور اسکے زید بچی نکاح ہوگا نہی جو بکر لڑکے ساتھ رشتہ طے ہوا اس صورت کیا حکم شرع ہے قرآن حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماے از قلم میر محمد اکبری مقام پوسٹ چھاجالا تحصیل بھینمال ضلع جالور راجستھان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں یہ نکاح جائز ہے اسی طرح کے ایک سوال زید کی پہلی بیوی سے ایک لڑکا ہے کچھ دنوں بعد زید نے ہندہ سے نکاح کیا تو ہندہ اپنے ساتھ ایک لڑکی لائی جو شوہر اول سے ہے؟ تو زید ہندہ کی اس لڑکی سے اپنے لڑکے کا نکاح کر سکتا ہے؟ کے جواب میں سیدی فقہ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں زید کے لڑکے کا نکاح ہندہ کی اس لڑکی سے کرنا جائز ہے اگر کوئی اور دوسری وجہ مانع جواز نہ ہو (فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ 570 ) اسی طرح کے ایک سوال کے کہ پہلی بیوی کی لڑکی کا نکاح دوسری بیوی کے لڑکے سے درست ہے جواب زید کی پہلی بیوی کے لڑکے کے ساتھ ہندہ کے پہلے شوہر کی لڑکی سےنکاح جائز ہے دونوں شرعاً اجنبی ہے (فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد اول صفحہ 551 ) اور ایسا ہی فتاوی تلخیص رضویہ جلد سوم صفحہ 353 ) میں ہے خلاصہ کلام زید نے اپنی بچی کا نکاح بکر کے لڑکے کے ساتھ کیا ہے وہ درست ہے واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 4 جون 2022 بروز ہفتہ
Comments
Post a Comment