جانور کا دانت ٹوٹا ہو ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے علماء اکرام ومفتیان عظام قربانی کے جانور کا ایک دانت ٹوٹ گیا تو کیا قربانی ہو جائے گی جواب عنایت فرمائیں
پوچھی گئی صورت میں اُس جانور کی قربانی کرنا،جائز ہے،کیونکہ اگر کسی جانور کے کچھ دانت نہ ہوں،لیکن اتنے دانت سلامت ہوں کہ جن سے وہ خود چارہ چر سکے،تو اُس جانور کی قربانی جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ دوسرا بے عیب جانور لیں کہ چھوٹے عیب سے بھی سالم جانور مستحب ہے۔
ہدایہ شریف میں ہے:’’ان بقی مایمکن الاعتلاف بہ اجزأہ لحصول المقصود‘‘ترجمہ:اگر اتنے دانت باقی ہیں،جن کے ساتھ وہ چارہ کھا سکتا ہے،تو مقصود کے حاصل ہونے کی وجہ سےاُس جانورکی قربانی جائز ہے۔ (ھدایہ،ج4،ص448،مطبوعہ لاھور)
فتاوی قاضی خان میں ہے:’’ان بقی لھا من الاسنان قدر ما تعتلف جاز والا فلا‘‘ترجمہ:اگر اتنے دانت ہوں ،جن سے چارہ کھا سکے،تو اُس کی قربانی جائز ہے،ورنہ جائز نہیں۔
واللہ اعلم ورسولہ
محمد عرفان غزالی بہار
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ
ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ
تاریخ ۱۸جون ۲۰۲۲

Comments
Post a Comment