انگوٹھی کے مسائل



انگوٹھی کے مسائل 

اور ایک روایت میں   ہے، کہ اس کو دہنے ہاتھ میں   پہنا پھر اس کو پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس میں   یہ  نقش تھا۔ محمد رسول  اﷲ اور یہ فرمایاکہ ’’کوئی شخص میری انگوٹھی کے نقش کے موافق اپنی انگوٹھی میں   نقش کندہ نہ کرائے اور حضور (    صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) جب انگوٹھی پہنتے تو نگینہ ہتھیلی کی طرف ہوتا۔ (2)


          حدیث ۳:  صحیح بخاری میں   انس  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے مروی، کہ رسول  اﷲ      صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم  کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اُس کا نگینہ بھی تھا۔ (3)


          حدیث ۴:  صحیح بخاری و مسلم میں   انھیں   سے روایت ہے کہ رسول  اﷲ    صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم  نے دہنے ہاتھ میں   چاندی کی انگوٹھی پہنی اور اس کا نگینہ حبشی ساخت کا تھا اور نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے۔ (4)


          حدیث ۵:  مسلم کی روایت انھیں   سے ہے، کہ رسول  اﷲ   صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی انگوٹھی اس انگلی میں   تھی یعنی بائیں   ہاتھ کی چھنگلیا میں  ۔ (5) 


          حدیث ۶:  صحیح مسلم میں   حضرت علی  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے مروی، کہ رسول  اﷲ       صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم  نے اس میں   یا اس میں   یعنی بیچ والی میں   یا کلمہ کی انگلی میں   انگوٹھی پہننے سے مجھے منع فرمایا۔ (6)

حضرت مفتی امجد علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے

 مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے، صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے، جو وزن میں   ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور سونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے

  انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے، دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، مثلاً لوہا، پیتل، تانبا، جست وغیرہا ان دھاتوں   کی انگوٹھیاں   مرد و عورت دونوں   کے لیے ناجائز ہیں  ۔ فرق اتنا ہے کہ عورت سونا بھی پہن سکتی ہے اور مرد نہیں   پہن سکتا۔


                حدیث میں   ہے کہ ایک شخص حضور( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی خدمت میں   پیتل کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے، فرمایا: کیا بات ہے کہ تم سے بُت کی بُو آتی ہے؟انھوں   نے وہ انگوٹھی پھینک دی پھر دوسرے دن لوہے کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے، فرمایا: کیا بات ہے کہ تم پر جہنمیوں   کا زیور دیکھتا ہوں  ؟ انھوں   نے اس کو بھی اتار دیا اور عرض کی، یارسول  اﷲ ! ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کس چیز کی انگوٹھی بناؤں  ؟ فرمایاکہ ’’چاندی کی اور اس کو ایک مثقال پورا نہ کرنا۔‘‘ (4) (درمختار، ردالمحتار)


          مسئلہ ۳:  بعض علما نے یشب (5)  اور عقیق (6) کی انگوٹھی جائز بتائی اور بعض نے ہر قسم کے پتھر کی انگوٹھی کی اجازت دی اور بعض ان سب کی ممانعت کرتے ہیں  ۔


                لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ چاندی کے سوا ہر قسم کی انگوٹھی سے بچاجائے، خصوصاً جبکہ صاحبِ ہدایہ جیسے جلیل القدر کا میلان ان سب کے عدم جواز (7) کی طرف ہے۔


          مسئلہ ۴:  انگوٹھی سے مراد حلقہ ہے نگینہ نہیں  ، نگینہ ہر قسم کے پتھر کا ہوسکتا ہے۔ عقیق، یاقوت، زمرد، فیروزہ وغیرہا سب کا نگینہ جائز ہے۔ (8) (درمختار)

  جب ان چیزوں   کی انگوٹھیاں   مرد و عورت دونوں   کے لیے ناجائز ہیں   تو ان کا بنانا اور بیچنا بھی ممنو ع ہوا کہ یہ ناجائز کام پر اعانت (1) ہے۔ ہاں   بیع کی(2) ممانعت ویسی نہیں   جیسی پہننے کی ممانعت ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)


          مسئلہ ۶:  لوہے کی انگوٹھی پر چاندی کا خول چڑھا دیا کہ لوہا بالکل نہ دکھائی دیتا ہو، اس انگوٹھی کے پہننے کی ممانعت  نہیں  ۔ (4) (عالمگیری) اس سے معلوم ہوا کہ سونے کے زیوروں   میں   جو بہت لوگ اندر تانبے یا لوہے کی سلاخ رکھتے ہیں   اور اوپر سے سونے کا پتّر چڑھا دیتے ہیں  ، اس کا پہننا جائز ہے۔


          مسئلہ ۷:  انگوٹھی کے نگینہ میں   سوراخ کرکے اس میں   سونے کی کیل ڈال دینا جائز ہے۔ (5)  (ہدایہ)


          مسئلہ ۸:  انگوٹھی اُنھیں   کے لیے مسنون ہے جن کو مہر کرنے کی حاجت ہوتی ہے، جیسے سلطان و قاضی اور علما جو فتوی پر مہر کرتے ہیں  ، ان کے سوا دوسروں  کے لیے جن کو مہر کرنے کی حاجت نہ ہو مسنون نہیں   مگر پہننا جائز ہے۔ (6) (عالمگیری)


          مسئلہ ۹:  مرد کو چاہیے کہ اگر انگوٹھی پہنے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے اور عورتیں   نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف رکھیں   کہ ان کا پہننا زینت کے لیے ہے اور زینت اسی صورت میں   زیادہ ہے کہ نگینہ باہر کی جانب رہے۔ (7) (ہدایہ)


          مسئلہ ۱۰:  دہنے یا بائیں   جس ہاتھ میں   چاہیں   انگوٹھی پہن سکتے ہیں   اور چھنگلیا میں   پہنی جائے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)


          مسئلہ ۱۱:  انگوٹھی پر اپنا نام کندہ کراسکتا ہے اور اﷲ           تعالیٰ اور حضور ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کا نام پاک بھی کندہ کراسکتا ہے، مگر ’’محمد رسول  اﷲ  ‘‘ یعنی یہ عبارت کندہ نہ کرائے کہ یہ حضور (  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی انگشتری پر تین سطروں   میں   کندہ تھی،  پہلی سطر محمد ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )، دوسری رسول، تیسری اسم جلالت اور حضور ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) نے فرمادیا تھا کہ کوئی دوسرا شخص اپنی انگوٹھی پر یہ نقش کندہ نہ کرائے۔ نگینہ پر انسان یا کسی جانور کی تصویر کندہ نہ کرائے۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)


          مسئلہ ۱۲:انگوٹھی وہی جائز ہے جو مردوں   کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں   کئی نگینے ہوں   تو اگرچہ

وہ چاندی ہی کی ہو، مرد کے لیے ناجائز ہے۔ (1) (ردالمحتار) اسی طرح مردوں   کے لیے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ انگوٹھی نہیں  ، عورتیں   چھلے پہن سکتی ہیں  ۔

(بہار شریعت ) واللہ اعلم ورسولہ 

ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی



Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे