بلند آواذ سے سلام ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ
جو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں کھڑے ہو کر سلام نہیں پڑھتا ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں

سائل محمد اظہر الدین عظیمی بہار
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ 
الجواب وباللہ توفیق 
سلام پڑھنا مستحب ہے کھڑے ہو کر پڑھے یا بیٹھ کر اور سلام میلاد کی مجلیس کے ختم پر پڑھتے ہے تو اچھا عمل ہے  اگر وہ نہیں پڑھتا ہے لیکن سلام پڑھنے کو بدعت نہیں کہتا تو اس پر کوئی حکم نہیں  ؛=۔  اور اگر اس کے عقائد دیوبندیوں کے ہے تو اس کی اقتدہ درست نہیں !  آجکل نام نہاد سنی یوں نے جو یہ طریقہ رائج کیا ہے کہ فجر و جمعہ کی جماعت کے بعد بلند آواز سے سلام پڑھتے ہے یہ غلط ہے اس لئے کہ اس کے سبب بعد میں آنے والے لوگ بھول جاتے ہے اور ان کے خیالات بدل جاتے ہے اور وہ اپنی نمازوں کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے لہاذا مسلمانوں پر لازم ہے وہ اس طرح سلام ہرگز نہ پڑھیں (فتاوی برکاتہ صفہ ۲۵۴) 
خلاصہ میلاد کی مجلس میں سلام سب لوگ مل کر پڑھ سکتے ہے مسجد میں بلند آواز سے سلام نہ پڑھیں بلکہ الگ الگ پڑھیں تاکہ دوسرے نمازیوں کو نماز پڑھنے میں خلل نہ ہو 
واللہ اعلم ورسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
تاریخ ۲۷جون ۲۰۲۲


Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे