😭فتوی تو میرے خلاف آگیا؟😭

مسلمانوں پر تعجب ہوتا جاہل ہو یا عالم حال یہ ہے کہ نفس کے غلام نظر آتے ہے جب یہ حضرات۔  کسی دارالافتاء میں سوال کرتے ہے اور جواب ان کے خواہش کے مطابق مل جاتا ہے تو بڑے خوش ہو کر مفتی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہے دعائیں دیتے ہے اور اگر جواب ان کی خواہش کے مطابق نہیں ملتا تو یہ لوگ بڑے اداس ہو جاتے ہے پھر مفتی صاحب کو دعا نہیں دیتے مطلب اب فتوی بھی کسی کو نچا دیکھا نے کے لئے طلب کیا جاتا ہے نہ کہ اپنے مسلمان بھائی کی اصلاح کی غرض سے اگر فتوی سائل کے خلاف آتا ہے تو اسے اپنی اصلاح کرنی چاہے نہ کہ منہ بگاڑ کر اداس ہو جائے مفتی کا کام ہے اللہ و رسول کے حکم سے تمہیں آگاہ کرنا کوئی بھی مفتی آپ جیسا چاہے ویسا فتوی ہرگز نہیں دے سکتا بلک جو حکم شرع ہے اسی کو پیش کرتا ہے لہاذا فتوی پر عمل کرنا واجب ہے اللہ فرماتا ہے 
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا(59)

 ترجمۂ کنز الایمان

اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ و رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ و قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا۔
وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ: اور رسول کی اطاعت کرو۔} یہاں آیت میں  رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی اطاعت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی۔(بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب یقاتل من وراء الامام ویتقی بہ، ۲ / ۲۹۷، الحدیث: ۲۹۵۷)

رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کے بعد امیر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ صحیح بخاری کی سابقہ حدیث میں ہی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس نے امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی۔(بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب یقاتل من وراء الامام ویتقی بہ، ۲ / ۲۹۷، الحدیث: ۲۹۵۷)

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت فرض ہے:

حضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت و فرمانبرداری فرض ہے، قرآنِ پاک کی متعدد آیات میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کا حکم دیا گیا بلکہ رب تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا اورا س پر ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی پرعذاب جہنم کا مژدہ سنایا ،لہٰذا جس کام کا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حکم فرمایا اسے کرنا اور جس سے منع فرمایا اس سے رک جانا ضروری ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(سورۂ حشر:۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں ، اُس سے باز رہو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: میری اور اس چیز کی جس کے ساتھ اللہ  تعالیٰ نے مجھے بھیجا مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہنے لگا: اے میری قوم میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے، میں واضح طور پر تمہیں اُس سے ڈرا رہا ہوں ، اپنی نجات کی راہ تلاش کر لو۔ اب ایک گروہ اس کی بات مان کر مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راتوں رات وہاں سے چلا گیا وہ تو نجات پا گیا اور ایک 
گروہ اس کی بات مان کر مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے راتوں رات وہاں سے چلا گیا وہ تو نجات پا گیا اور ایک گروہ نے اس کی بات نہ مانی اور وہیں رکا رہا تو صبح کے وقت لشکر نے ان پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کردیا۔ تو جس نے میری اطاعت کی اور جو میں لایا اس پر عمل پیرا ہوا وہ اس گروہ جیسا ہے جو نجات پاگیا اور جس نے میری نافرمانی کی اور جو میں لایا اسے جھٹلایا تو وہ اس گروہ کی طرح ہے جو نہ مان کر ہلاکت میں پڑا۔(مسلم، کتاب الفضائل، باب شفقتہ صلی اللہ علیہ وسلم علی امتہ۔۔۔ الخ، ص۱۲۵۳، الحدیث: ۱۶(۲۲۸۳))

اِس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلمان حکمرانوں کی اطاعت کا بھی حکم ہے جب تک وہ حق کے موافق رہیں اور اگر حق کے خلاف حکم کریں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔نیز اس آیت سے معلوم ہوا کہ احکام تین قسم کے ہیں ایک وہ جو ظاہر کتاب یعنی قرآن سے ثابت ہوں۔ دوسرے وہ جو ظاہر حدیث سے ثابت ہوں اور تیسرے وہ جو قرآن و حدیث کی طرف قیاس کے ذریعے رجوع کرنے سے معلوم ہوں۔ آیت میں ’’اُولِی الْاَمْرِ‘‘ کی اطاعت کا حکم ہے ، اس میں اما م، امیر، بادشاہ، حاکم، قاضی، علماء سب داخل ہیں۔ اور اللہ تعالی فرماتا ہے 
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِؕ -قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ۪-وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(1)

 ترجمۂ کنز العرفان

اے محبوب! تم سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ تم فرماؤ، غنیمت کے مالوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں تو اللہ سے ڈرتے رہو اور آ پس میں صلح صفائی رکھو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر تم مومن ہو۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ(20)وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ(21)

 ترجمۂ کنز الایمان

اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن سنا کر اس سے نہ پھرو۔اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا او ر وہ نہیں سنتے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ(33)

 ترجمۂ کنز الایمان

اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے عمل باطل نہ کرو۔
مسلمانوں فتوی اگر آپ کی مرضی کے خلاف بھی ہو تب بھی اداس نہ ہو بلکہ اس حکم کو خوش دلی سے قبول کر لو یہ نہ دیکھو کہ لوگ کیا کہے گے میں ہار مان لی نہیں نہیں آپ نے ہار نہیں مانی بلکہ اپنے آپ کو شرع کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے اور اس آپ کو بہت بڑا فائدہ ہوگا اللہ فرماتا ہے 
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا(70)یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا(71)

 ترجمۂ کنز الایمان

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًا(69)

 ترجمۂ کنز الایمان

اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں
مسلمانوں یہ ہے حکم شرع کو قبول کر کے اس پر عمل کرنے کا انعام اور جو حکم شرع کو قبول نہ کرے ان لئے اللہ تعالی فرماتا ہے 
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُؕ-اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًاؕ-وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا(57)

 ترجمۂ کنز الایمان

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو وہ ان سے منہ پھیرلے اور اس کے ہاتھ جو آگے بھیج چکے اسے بھول جائے ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیئے ہیں کہ قرآن نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ا ور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہرگز کبھی راہ نہ پائیں گے۔
اور اللہ فرماتا ہے 
وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِـعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا(115)

 ترجمۂ کنز الایمان



اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی۔=/۔ 
اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو حکم شرع سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی

Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे