🔭مائک پر نماز📢



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں کہ مسجد کے اندر ماءک میں نماز ادا کی جاتی ہے امام صاحب کی قرآن پڑھنے کی آواز مسجد سے باہر روڈ تک جاتی ہے تو کیا مسجد کے باہر روڈ پر چلنے والے لوگوں پر بھی اس قرآن کا سنا واجب ہوگا  یا صرف مسجد کے اندر نمازیوں پر واجب ہوگا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کتاب کا نام ضرور تحریر فرمادیں یہ مسلہ کس کتاب میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد جمیل اختر اشرفی گجرات وانکانیر

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

قرآن مجید سننا انھیں پر واجب ہے جو سننے کی غرض سے آئے ہو مگر نماز مائک میں پڑھانا اور آواز اتنی بلند ہو کہ جو باہر تک سنائی دے ناجائز ہے جیسا کہ فقیہ النفس امام اجل فخر الدین حسن بن منصور قاضی خان رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کوئی شخص قرآن پڑھے اور اس کے پہلو میں دوسرا شخص فقہ لکھ رہا ہے جس کے لئے سننا ممکن نہیں تو  گناہ   پڑھنے والے کو ہوگا کیونکہ وہ ایسی جگہ پڑھ رہا ہے جہاں لوگ اپنے کام میں مشغول ہیں  (فتاوی قاضی خان جلد اول صفحہ 352 ) 

حضرت علامہ شامی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں قرآن کا سنا فرض کفایہ ہے مگر قاری پر واجب ہے کہ وہ قرآن کا احترام کرے وہ اسے بازاروں میں اور مشغولیت کی جگہوں میں نہ پڑھے پس جب وہ اسے ان مقامات پر پڑھے گا تو وہ قرآن کی حرمت کو ضائع کرنے والا ہوگا پس گناہ قاری پر ہوگا نہ کہ مشغول لوگوں پر  (درمختار ردالمتار تنویر الابصار جلد دوم صفحہ 423 )  خلاصہ کلام نماز میں بغیر ضرورت کے مائک نہ لگائے اور ضرورت ہو جیسے جماعت کثیر تعداد میں ہے اور لوگوں تک امام کی آواز نہیں پہنچتی تو مائک پر ہمارے نزدیک نماز جائز ہے مگر اندر کے اسپیکر پر نہ کہ باہر کے اسپیکر پر بہتر یہ ہے کہ نماز مین مائک نہ لگائیں تاکہ اختلاف علماء سے بچے کہ بعض علماء کے نزدیک مائک پر نماز مکروہ تحریمی ہے واللہ اعلم و رسولہ 

کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

تاریخ 29 جون 2022



Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे