قسم کا کفارہ ایک ہی فقیر کو دینا؟
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ بسم الله الرحمن الرحیم کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسلہء ھٰذَا کے متعلق قسم کے کفارہ میں دس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کھانا کھلانے کے بجائے نقد رقم(روکڑا روپیہ)دے سکتے ہیں یا نہیں؟اگر دے سکتے ہیں تو ساری رقم کتنی ہوگی؟ ( نمبر دو) وہ ساری رقم بیک وقت ایک ہی مسکین کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟ کچھ وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع فراہم کریں۔ (ساءل نظام الدین اکبری مقام پوسٹ رادھن پور تعلقہ رادھن پور ضلع پاٹن صوبہ گجرات الھند)
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
الجواب و باللہ توفیق ۔۔۔۔اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ قسم توڑنے والے پر قسم کے کفارے کی نیت سے ایک غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا یا انہیں دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا لازم ہوتا ہے اور اسے اس بات کا بھی اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو کھانے کے بدلے میں ہر مسکین کو الگ الگ ایک صدقۂ فطر کی مقدار یعنی آدھا صاع (دو کلو میں اَسی گرام کم) گندم یا ایک صاع (چار کلو میں ایک سو ساٹھ گرام کم) جَو یا کھجور یا کشمش دے دے یا ان چاروں میں سے کسی کی قیمت دے دے۔ اگر ان کے علاوہ کوئی دوسری چیز دینا چاہے ، تو اس چیز کی قیمت کا آدھے صاع گندم یا ایک صاع کھجور یا جَو کی قیمت کے برابر ہونا ضروری ہے۔ نیز ایک ہی مسکین کو دینا چاہے تو ضروری ہے کہ دس دن تک ایک ایک الگ صدقۂ فطر کی بقدر دے۔ (فتاوی اہلسنت ) واللہ اعلم ورسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
تاریخ ۵جون بروز اتوار ۲۰۲۲
Comments
Post a Comment