زکوة جب فرض ہوئی اسی حساب سے
السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔۔۔۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہندہ پر رجب المرجب میں زکوٰۃ فرض ہوئی۔۔۔۔ اس کے پاس سونا اور کچھ ضروریات اصلیہ کے علاوہ سامان ہے جو ساڑھے باون تولہ چاندی سے زیادہ ہے ۔۔۔۔
1۔۔۔۔۔اب ہندہ زکوٰۃ رقم کی صورت میں دے یا کس صورت میں اور اگر رقم کی صورت میں دے تو کیا کچھ سامان بیچ کر زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی۔۔۔
2۔۔۔۔۔ماہ ذو القعدہ میں ہندہ نے زکوٰۃ دینے کہ نیت کی۔۔۔ مارکیٹ ریٹ رجب المرجب میں اور تھا جب کہ ماہ ذو القعدہ میں اور تو اب کس ریٹ کا اعتبار کو گا۔۔۔
3 ۔۔۔۔ماہ ذو القعدہ میں اگر ہندہ نے زکوٰۃ دی ۔ اتنی تاخیر کرنا کیسا۔۔۔
4۔۔۔۔۔ہندہ کے پاس نقدی رقم موجود نہ ہو تو کیا شوہر سے پیسے لے کر اپنی مِلک میں کر کے زکوٰۃ دے تو ہو جائے گی یا نہیں۔۔۔ یا شوہر کو کہے کہ میری طرف سے دے دینا۔۔۔
راہنمائی فرما دیں
جزاک اللہ خیرا
عبد المصطفیٰ پنجاب پاکستان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
1 فی زمانہ عرف عام ہے کہ زکوۃ ادا نقد روپیہ سے کرتے ہیں لہٰذا ہندہ کے پاس زکوۃ ادا کرنے کے لیے روپیہ ہے تو اسی سے ادا کر سکتی ہے
2 جس ماہ میں زکوۃ فرض ہوئی اسی حساب سے ادا کرے (فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 120 )
3 مکروہ ہے
4 شوہر یا کسی دوسرے سے قرض لے کر زکوۃ ادا کرے شوہر بیوی کی طرف سے ادا کرے تو بھی درست ہے کہ عرف یہ ہی ہے کہ بیوی کے زیورات کی زکوۃ شوہر ہی دیتا ہے
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 20 جون 2022

Comments
Post a Comment