میت کے گھر دعوت؟ فتوی 596

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اگر کوئ شخص فوت ہو جائے تو مرحوم کے گھر والے دعوت دے کرکھانے پے بلاتے ہیں اس کی کیا شرعی حیثیت ہے
نیز اگر بلا سکتے ہیں تو کتنے دنوں تک دعوت دے کرکھانے پر  بلا سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے ہاں رواج ہے
حافظ شکیل احمد ضلع اٹک پاکستان
✍🏻 *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
میت کے ایصال ثواب کے لئے کھانا کھلائے تو یہ مستحب ہے مگر یہ صرف فقیر ومسیکن لوگوں کو کھلایا جائے نہ کہ برداری کو جمع کر کے کھلانا منع ہے موت میں دعوت ناجائز ہے فتاوی فقیہ ملتا جلد اول صفحہ 295 میں ہے اعلی حضرت محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں سوم و چہلم کا کھانا مساکین کو دیا جائے برداری کو تقسیم یا برادری کو جمع کر کے کھلانا بے معنی ہے موت میں دعوت ناجائز ہے موت کی نیت سے دعوت کرنا ممنوع ہو بحوالہ  فتاوی رضویہ، اور جو شخص میت کے کھانے کے انتظار میں رہتا ہے اس کے نہ ملنے سے ناخوش ہوتا تو ایسا کھانا اس کے دل کو مردہ کر دیتا ہے لہٰذا صرف ایصال ثواب کا کھانا مساکین کو ہی دیا جائے غنی لوگوں کو یہ کھانا جائز نہیں *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*


*تاریخ  17 جنوری 2021 بروز اتوار*

Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे