نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا حکم فتوی 597

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ اسپیکر سے، نماز پڑھا سکتے ہیں کہ نہیں جب کہ دو یا چار سف نماز ی ہے۔ جواب عنایت فرماے قاری محمد سلیم اکبری جالوری
وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ 
الجواب وباللہ توفیق لاؤڈ اسپیکر کے متعلق علماء کرام کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک جائز ہے بعض کے نزدیک ناجائز  ہم حالات زمانہ پر نظر کرے تو معلوم ہوگا کہ اب یہ لاؤڈ اسپیکر والا مسئلہ عموم بلوی کی صورت اختیار کر چکا ہے زیادہ تر مساجد میں اس کا استعمال ہو رہا ہے اور عموم بلوی کو نصوص کی حیشیت حاصل ہے لہاذا ہمارا فتوی جواز کا ہے جیسا کہ حضرت مفتی عبد الواجد قادری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے اس کی آواز ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہونے کے جواز و صحت کی جانب رہنمائی کرتا ہے اس لئے جو حضرات نماز میں اسے استعمال کرتے ہیں میں اسے منع کر کے عندالشراع زیربار ہونا نہیں چاہتا کہ ممانعت دلیل شرع کی محتاج ہے اور اباحیت کے لئے سکوت شرع کافی ہے (فتاوی یوروپ صفحہ ۲۰۲) واللہ اعلم ورسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ ۱۰اگشت ۲۰۲۲


Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे