مشرک سے نکاح حرام

​السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ


کوئی سنی صحیح العقیدہ مسلمان لڑکی کوئی ہندو ایک کافر کے ساتھ کورٹ میرج کر کے ازواجی زندگی گزار رہی ہے اسے سمجھانے پر کہتی ہے کہ میرا شوہر اپنے مزہب پر ہے اور میں اپنے دین و مذہب پر قایم ہوں تو اس میں کیا خرابی ہے اور در حقیقت وہ روزہ بھی کبھی کبھی رکھتی ہے اور کبھی کبھی نماز کی ادائیگی کرتی ہے اب سوال یہ ہے وہ لڑکی کے انتقال کے بعد مسلمانوں کو اسکی  تکفین و   تدفین کرنا اس کی نماز جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کی قبریتان میں دفن کرنا کیسا ہے 


جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں


سائل محمد اظہر الدین عظیمی بہار کھگڑیا پھولتوڑا

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں کسی مسلمان کا نکاح کسی کافر مشرک سے کرنا حرام ہے 

اللہ تعالٰی فرماتا ہے  

وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ‌ؕ وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ‌ۚ وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا ‌ؕ وَلَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكُمۡؕ اُولٰٓئِكَ يَدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ  ۖۚ وَاللّٰهُ يَدۡعُوۡٓا اِلَى الۡجَـنَّةِ وَالۡمَغۡفِرَةِ بِاِذۡنِهٖ‌ۚ وَيُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ  ۞


ترجمہ:

اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مصیبت میں ڈال دیتا بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں ان سے نکاح نہ کرو بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے زیادہ بہتر ہے  اگرچہ وہ تمہیں اچھی لگے اور مشرک مرد سے مسلمان عورتوں کا نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور بے شک مومن غلام مشرک سے بہتر ہے  اگرچہ وہ تمہیں اچھا لگے ۔ وہ (مشرکین) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے  اپنے حکم سے اور وہ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ نصیحت مانیں  (سورتہ البقرة آیت 221 ) اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف٤۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف٤۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف٤۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف٤۳٤) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں، (تفسیر نور العرفان ) 

خلاصہ کلام یہ لڑکی سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے  اور زندگی بھر زنا میں مبتلا رہے گی ! اگر وہ اس مرد سے جدا نہیں ہوتی ہے تو اس کا بائیکاٹ کیا جائے  البتہ جب تک اس سے کوئی کفر ثابت نہ ہو تو وہ مسلمان ہے اس کا جنازہ پڑھنا جائز ہے مگر اہل علم نہ پڑھیں واللہ اعلم. ورسوله 

کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

تاریخ 6 ستمبر 2022

Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे