قرآن درست پڑھنا؟

​السلام علیکم مفتی صاحب قبلہ

          کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین درج ذیل صورت حال میں

                    ہم فی الحال وانکانیر کے علاقوں میں خدمت قرآن مجید کی کوشش کر رہےہیں جس میں ہمارا مقصد قرآن کی تعلیم کو عام کرنا اور عوام تک پہنچانا اس کی شروعات ہم مکتب سے کرتے ہیں کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم کام شروع کرتے ہیں اور تجوید کے قواعد اور تصحیح حروف لازم کرتے ہیں ہمارا طریقہ (با تا ثا) والا رہتا ہے جسے ہمارے علاقوں میں عوام و خواص مخارج سے پڑھنا کہتے ہیں کچھ ہمارے سامنے مسائل ایسے آتے ہیں کہ کچھ لوگ بغیر تجویدی رعایت کے غیر قانونی طور سے (بے تے ثے) پڑھاتے ہیں اب وہ لوگ جنہیں صرف نام کا قرآن پڑھنا ہوتاہے انہیں تکلیف شروع ہوجاتی ہے تو وہ لوگ کچھ اس طرح کے اعتراض کرتے ہیں

         دونوں میں فرق کیا ہے درست کیا ہے یہ کیوں غلط وہ کیسے درست ہے اسی طرح بے مقصد کئی سوالات ہوتے ہیں تو ہم حالات کے مطابق جو ہمارے سامنے قرآن کے ساتھ غیر معروف روے ہیں ان کے پیش نظر اور امتیاز حروف کے فتاویٰ  دھیان میں رکھتے ہوئے جواب دیدیتے ہیں

مفتی صاحب قبلہ سے عرض ہے کہ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہمارا یہ انداز درست ہے یا غلط

+قرآن مجید کو صحت حروف اور تجوید کے خلاف پڑھنا سننا کیسا ہے

+اگر کوئی عالم یا امام ان کاموں میں شامل ہو تو ان پر حکم شرع کیا ہوگا

+ کیا عوام کے ڈر اور اپنی نوکری کی فکر میں بغیر تجوید اور بغیر تصحیح حروف کے پڑھا سکتے ہیں


العارض : غلام مصطفی

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ 

الجواب وباللہ توفیق  ماشااللہ آپ کی کوشش بہت اچھی ہے اللہ تعالی آپ کو کامیابی عطا فرمائے 

قرآن پاک کودرست مخارج سے پڑھنا واجب ہے  اللہ تعالی فرماتا ہے وَ رَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ  تَرۡتِیۡلًا ؕ﴿۴﴾ ترجمہ اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ( سورہ 73 آیت 4)  اس آیت کی تفسیر میں ہے قرآن کریم کے حروف و الفاظ کو خوب واضع کرکے صاف صاف و آرام سے پڑھیں (تفسیر کنزالعرفان )    مفتی احمد یار خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے تلاوت قرآن نہایت اطمینان سے کرنی چاہے جس سے حروف صحیح ادا ہوں مد شد وغیرہ ظاہر کرنا فرض ہے (تفسیر نورالعرفان سورہ مزمل آیت ۴)   مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے 

ایسا پڑھے کہ سمجھ میں  آسکے یعنی کم سے کم مد کا جو درجہ قاریوں  نے رکھا ہے اس کو ادا کرے، ورنہ حرام ہے اس لیے کہ ترتیل سے قرآن پڑھنے کا حکم ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار) آج کل کے اکثر حفاظ اس طرح پڑھتے ہیں  کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے   یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ  کے سوا کسی لفظ کا پتہ بھی نہیں  چلتا نہ تصحیح حروف ہوتی، بلکہ جلدی میں  لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں  اور اس پر تفاخر ہوتا ہے کہ فلاں  اس قدر جلد پڑھتا ہے، حالانکہ اس طرح قرآن مجید پڑھنا حرام و سخت حرام ہے۔ 

خلاصہ کلام قرآن کو درست مخارج سے پڑھنا واجب یہ اس کا انکار کرنے والا گمراہ جاہل ہے اس کی اقتدہ میں نماز پڑھنا جائز نہیں   اگر کوئی امام عوام اور نوکری کے ڈر سے غلط پڑھاتا ہے تو وہ سخت گنہگار ہے رزق دینے والا اللہ تعالی ہے نہ کہ لوگ   واللہ اعلم ورسولہ 

کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 

تاریخ 6ستمبر 2022

Comments

Popular posts from this blog

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

راکھی باندھنا حرام ہے