کافر کی تعظیم کفر ہے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرما تے ہیں مفتیان کرام اس کے بارے میں ۔ ایک مسلم سماج جو دین کے معاملات میں بالکل ان پڑھ ہے اور ایک گھر ایسا بھی ہے جو اور بھی زیادہ ان پڑھ ہے اور ان کے معمولات غیر مسلم کے ساتھ رہتے ہیں
غیر مسلم کے رسم و رواج کو بھی عمل میں لاتے ہیں جیسے ہندوؤں میں عورت کا اپنے ماں باپ اور بڑوں کے سامنے جھک کر پیر کا چھونا عظیم سمجھا جاتا ہے
ایک مسلم گھرانے کی لڑکی کا غیر مسلم کے پیر چھونا کیسا ہے اور ان کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ۔اور ایسی عورت سے دین دار لڑکے کا نکاح کرنا کیسا ہے (جب کے لڑکے کے منع کر نے سے لڑکی نے کہا یہ میرے ماں باپ کی طرح ہے اچھے انسان ہے میں تو یہ کروں گی(پیر چھوؤں گی )
جواب عنایت فرمائیں
جمال الدین اکبری راجستھان
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
اس طرح کی رسم حرام سخت حرام ہے اور کافر کا پاؤں چونا یہ اس کی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم کفر ہے (بہار شریعت جلد سوم صفحہ 465 ) میں ہے بقصد تعظیم کافر کو ہر گز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے! !!
خلاصہ کلام راجستھان میں یہ رواج ہے کہ پاؤں چو کر تعظیم کرتے ہیں اس طرح مسلمان کے ساتھ کرنا ناجائز ہے اور کافر کے ساتھ کفر ہے
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی

Comments
Post a Comment