مردے کے تلقین کی حدیث

مردے کو دفن کرنے کے بعد قبر میں تلقین (یعنی کلمہ، ایمان، اور جوابِ سوالات کی یاد دہانی) کا عمل فقہی طور پر مستحب مانا گیا ہے، اور بعض احادیث و آثار اس کی تائید کرتے ہیں، اگرچہ ان میں کچھ اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔

تلقین کی حدیث:

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

> "جب تم میں سے کوئی شخص مر جائے اور تم اس کی قبر تیار کر لو اور اسے دفن کر دو، تو اس کے سر کے قریب کھڑے ہو کر کہو:

يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةٍ، اُذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ"

(یعنی: اے فلاں بن فلاں! اس بات کو یاد رکھو جس پر تم دنیا سے گئے: اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں)



(سنن بیہقی، شعب الایمان، رقم: 8001)
علماء نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا، مگر عمل کے درجے میں مستحب مانا، کیونکہ بعض صحابہ کرام سے بھی یہ تلقین کرنا منقول ہے۔


---

فقہی موقف (احناف):

احناف، شوافع، حنابلہ کے نزدیک دفن کے بعد تلقین کرنا مستحب ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

> "جمہور علماء تلقین کو مستحب سمجھتے ہیں۔"



(المجموع شرح المہذب، النووی)


---

تلقین کا مسنون طریقہ:

1. دفن کے بعد قبر کے قریب کھڑے ہو کر


2. بلند آواز سے (تاکہ سننے والا یاد رکھے)


3. کہو:



> "یَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةٍ، اِذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ..."



یا مختصر طور پر:

> "یَا فُلَانَ، قُلْ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰه"

مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: میت دفن کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1716

ترجمہ:
عمرو بن عاص ؓ نے، جب وہ نزع کے عالم میں تھے، اپنے بیٹے سے کہا: جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی جائے نہ آگ، جب تم مجھے دفن کر چکو اور مجھ پر مٹی ڈال لو تو پھر اتنی دیر تک میری قبر کے گرد کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ میں تمہاری وجہ سے خوش اور پرسکون ہوں اور میں جان لوں کہ میں اپنے رب کے بھیجے ہوئے قاصدوں (فرشتوں) کو کیا جواب دیتا ہوں۔‘‘   رواہ مسلم۔





Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे