علماء کی توہین
فتویٰ نمبر: ۱۴۷/گلزار طیبہ
🖋️ تاریخ: ۲۶/جولائی/۲۰۲۵
📍 دارالافتاء گلزارِ طیبہ
سوال:
ایک شخص کہتا ہے کہ علماء کی وجہ سے اسلام پیچھے ہے، علماء کے اندر بچوں کو پڑھانے کی لیاقت نہیں، وہ بچوں کی تربیت کے قابل نہیں، ان کی وجہ سے اسلام کمزور ہو گیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس قسم کی باتیں کرنا جائز ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
سوال میں مذکور کلمات سراسر گمراہی، بہتان اور سخت حرام ہیں۔ یہ جاہلانہ اور گستاخانہ سوچ کی پیداوار ہیں جن کا مقصد صرف عوام کو علماء کرام سے بدظن کرنا ہے، جو کہ دین کو کھوکھلا کرنے والی ایک مہلک سازش ہے۔
📚 سنی صحیح العقیدہ عالم دین کی توہین کفر تک لے جانے والا عمل ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
> "عالم دین کو بُرا کہنا اگر اُس کے عالم دین ہونے کے سبب ہے تو کفر ہے اور عورت نکاح سے باہر، خواہ بُرا کہنے والا خود عالم ہو یا جاہل، اور عالم سنی العقیدہ کی توہین جاہل کو جائز نہیں، اگرچہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں، اور بد مذہب و گمراہ اگرچہ عالم کہلاتا ہو، اُسے بُرا کہا جائے گا مگر اُسی قدر جتنے کا وہ مستحق ہے، اور فحش کلمہ (یعنی گندی گالی) سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہئے۔"
(📘 فتاویٰ رضویہ، جلد ۲۱، ص ۲۹۴)
🧕 عوام کو علما سے بدظن کرنا سخت گناہ ہے
صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
> "افسوس کہ اس زمانہ میں جبکہ گمراہی شائع ہو رہی ہے اور بد مذہبی زور پر ہے، بعض خود کو سنی کہتے ہوئے بھی علمائے اہل سنت کی برسرِ عام تحقیر کرتے ہیں، گالی اور بیہودہ الفاظ سے یاد کرتے ہیں، ایسے لوگ خود ہلاکت میں پڑتے ہیں اور عوام کو بھی گمراہی کی طرف کھینچتے ہیں۔"
(📕 فتاویٰ امجدیہ، جلد ۴، ص ۵۱۵)
🔒 علماء کی بے ادبی کرنا درحقیقت دین کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔
📢 عوام الناس کو چاہیے کہ:
علمائے اہلسنت کی قدر کریں۔
اگر کسی عالم سے اختلاف ہو تو ادب کے دائرے میں رہیں۔
جو لوگ علما کی توہین کریں، ان سے بچ کر رہیں اور اصلاح کی کوشش کریں۔
📿 دعا:
اللہ تعالیٰ ہمیں علمائے کرام کی بے ادبی سے محفوظ فرمائے،
اُن کی عزت و احترام دلوں میں پیدا فرمائے،
اور جن کے دلوں میں حسد، بغض یا حقارت ہے اُنہیں محبت و تواضع سے بھر دے،
آپس میں اتفاق و تعاون کی توفیق دے،
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
📌 فتویٰ از: مفتی ابو احمد ایم جے اکبری
🌸 دارالافتاء گلزارِ طیبہ
Comments
Post a Comment