فرشتوں نے شامل ہو کر قتل
سوال: کیا کسی جنگ میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ فرشتوں نے قتال کیا تھا؟
✍️ سائل: محمد علی، کچھ – گجرات
الجواب باسمہ تعالیٰ و بفضلہ
اس مسئلہ میں جمہور مفسرین کرام کی تحقیق کے مطابق، غزوۂ بدر میں فرشتوں کا نزول ضرور ہوا، مگر ان کا نزول قتال کے لیے نہیں بلکہ:
🔹 مسلمانوں کو بشارت دینے،
🔹 ان کے دلوں کو اطمینان بخشنے،
🔹 اور روحانی مدد فراہم کرنے کے لیے ہوا تھا۔
اگر فرشتے قتال میں شریک ہوتے، تو صحابۂ کرام کے ہاتھوں فتح کی جو فضیلت و شجاعت ہے، وہ بے معنی ہو جاتی۔ اسی لیے اہلِ تفسیر کی غالب رائے یہی ہے کہ فرشتوں کا نزول مادی جنگ کے لیے نہیں، بلکہ معنوی تقویت کے لیے تھا۔
---
📚 مفسرین کرام کی آراء:
✅ امام ماتریدیؒ (تأویلات اہل السنہ):
"اگر فرشتوں نے قتال کیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان، 'ہم نے تمہیں ان کی نگاہ میں کم کرکے دکھایا' (الأنفال: 44) بے معنی ہو جاتا، اور ایک فرشتہ تمام کفار کو ختم کرنے کے لیے کافی تھا۔"
✅ امام سمرقندیؒ (تفسیر بحر العلوم):
"اگر فرشتے قتال کرتے، تو صحابہ کو قتل کرنے کا اجر نہ ملتا۔ ان کی فضیلت تو اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب قتال انہوں نے خود کیا ہو۔"
✅ علامہ زمخشریؒ (الکشاف):
"مدد کا سبب فرشتوں کی موجودگی نہیں، بلکہ اللہ کی مدد ہے۔ فرشتے صرف بشارت دینے والے تھے۔"
✅ امام قرطبیؒ (الجامع لأحکام القرآن):
"فرشتے صرف دعا، تسکینِ قلب اور بشارت کے لیے آئے تھے، قتال کے لیے نہیں۔"
✅ امام نسفیؒ (مدارک التنزیل):
"فرشتے قتال کے لیے نہیں، بلکہ دلوں کو مطمئن کرنے کے لیے نازل کیے گئے۔"
✅ علامہ غلام رسول سعیدیؒ (تبیان القرآن):
"تمام اکابر مفسرین اس پر متفق ہیں کہ فرشتے قتال کرنے نہیں آئے تھے، بلکہ بشارت اور تسکینِ قلب کے لیے نازل ہوئے تھے۔"
---
📖 قرآنی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
> "وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ"
(الأنفال: 10)
یعنی:
"اللہ نے فرشتوں کو صرف بشارت بنایا تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوں، اور مدد تو صرف اللہ کی طرف سے ہے۔"
---
✅ خلاصہ تحقیق:
الحمدللہ، ان تمام تفسیری اقوال اور عقلی و نقلی دلائل سے یہ بات صاف اور واضح ہو جاتی ہے کہ:
> غزوۂ بدر میں فرشتے قتال کے لیے نہیں، بلکہ بشارت و تسکینِ قلب کے لیے نازل ہوئے تھے۔
لہٰذا، وہ بات جو اکثر عوام میں مشہور ہے کہ فرشتے تلوار لے کر جنگ میں شریک تھے، دلائل کی روشنی میں ثابت نہیں ہوتی۔
---
📌 نوٹ:
یہی وجہ ہے کہ اہلِ حق فخر سے کہتے ہیں کہ 313 صحابہ کرام نے اللہ کی مدد سے ایک ہزار کفار کو شکست دی — یہ معرکہ فرشتوں کے قتال کے بغیر صحابہ کے خلوص، قربانی اور ایمان کی بنیاد پر جیتا گیا۔
---
✒️ واللہ اعلم بالصواب
🖋️ مفتی ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
📍 دارالافتاء گلزارِ طیبہ – گجرات، بھارت
Comments
Post a Comment