جو سنت غیر مؤکدہ کا پابند نہ
سوال:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی امام سنتِ غیر مؤکدہ کسی وجہ سے چھوڑ دے تو اس کی نماز آدھی ادھوری ہے اور اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
سائل: عبدالشکور، بھوج گجرات
---
الجواب وباللہ التوفیق
سنتِ غیر مؤکدہ کے بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ ان کو پڑھنے کے بہت فضائل ہیں، بلا وجہ ترک کرنا درست نہیں اور ترک کی عادت بنانا بھی پسندیدہ نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص سنتِ غیر مؤکدہ نہیں پڑھتا یا ان کے چھوڑنے کا عادی ہے تو ایسا شخص ثواب سے محروم رہے گا، مگر گنہگار نہیں ہوگا۔ لہٰذا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا بالاتفاق جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
"سنتِ غیر مؤکدہ: وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے، عام ازیں کہ حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا نہیں، اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادتاً ہو موجبِ عتاب نہیں۔"
(بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 283، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
لہٰذا زید کا یہ کہنا کہ ’’ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی‘‘ صریح غلط ہے۔ اسے چاہیے کہ فوراً توبہ کرے اور آئندہ اس طرح کے غلط مسائل بیان نہ کرے، کیونکہ حدیث میں ہے:
"جو شخص علم کے بغیر فتویٰ دے، اس پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنت ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ)
البتہ امام کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ حتی الامکان سنت و مستحب کا اہتمام کرے، کیونکہ عوام امام کو دیکھ کر دین سیکھتے ہیں۔ ساتھ ہی عوام کو بھی یہ سمجھایا جائے کہ جس چیز کو شریعت نے ضروری قرار نہیں دیا، اسے ضروری نہ سمجھیں اور نہ اس پر فتنہ و فساد کھڑا کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
واللہ اعلم ورسولہ
✍️ ابو احمد ایم جے اکبری
دارالافتاء گلزار طیبہ
Comments
Post a Comment