رفع الیدین
واضح رہے کہ مسئلہ رفع یدین وجوب وعدم وجوب سے متعلق نہیں ہے بلکہ صرف سنیت وافضیلت سے متعلق ہے اس لئے اس مسئلہ میں شدت اختیار کرنے سے احتراز کرنا ضروری ہے، بہرحالرفع یدین سے متعلق عرض یہ ہےکہ ابتدائی زمانہ میں نماز کے اندر متعدد موقعوں پررفع یدینکرنا سنت تھا، مثلاً: رکوع میں جاتے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت، سجدہ میں جاتے وقت، سجدہ سے اٹھتے وقت، دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے وقت اور سلام کے وقت،پھربعد میں تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ دیگر تمام مواقع پر رفعِ یدین کا حکم منسوخ ہو گیا؛ لہذا اب وتر اور عیدین کی نماز کے علاوہ عام نمازوں میں صرف تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہی ”رفعِ یدین“ مسنون ہے، اور یہ مسئلہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے مختلف فیہ ہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بعض صحابہ کرام ”رفع یدین“ کرتے تھے اوربعض نہیں کرتے تھے،اسی وجہ سے مجتہدینِ امت میں بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہواہے،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ترکِ رفع یدین والی روایات کوراجح قراردیاہے،کئی اکابر صحابہ کرام کامعمول ترکِ رفع کاتھا، اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاآخری عمل ہے، اس لیے احناف کے نزدیک دورِ حاضر میں بھی ترکِ رفع یدین ہی سنت ہے۔
ابوداؤد شریف میں ہے:
"حدّثنا إسحاق، حدثنا ابن إدریس قال: سمعت یزید بن أبي زیاد عن ابن أبي لیلی عن البراء قال: رأیت رسول الله صلی الله علیه وسلم رفع یدیه حین استقبل الصلاة، حتی رأیت إبهامیه قریبًا من أذنیه ثم لم یرفعهما."
ترجمہ: ”حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ دونوں ہاتھوں کو اٹھایا جس وقت نماز شروع فرمائی تھی، حتی کہ میں نے دیکھا کہ دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں کو دونوں کانوں کے قریب پہنچایا، اس کے بعد پھر اخیر نماز تک دونوں ہاتھوں کو نہیں اٹھایا۔“
( کتاب الصلوۃ، باب رفع الیدین فی الصلوۃ، رقم الحدیث:721، ج1، ص191، ط: المکتبة العصریة)
اور دور حاضر میں یہ رفع یدین یہ بد مذہب کی علامت ہے اس لیے اس سے بچنا چاہیے اور سوال میں بتائے ہوئے علامت میں واضح ہو رہا ہے کہ جو بندہ پیر چوڑے کر کے نماز پڑھتا ہے وہ اور غوث پاک کی طرف جو روایت کرتا ہے
کہ غوث پاک بھی امام اعظم کے مقلد نہیں تھے تو یہ غوث پاک غوث پاک ہیں اور یہاں پر ہم حنفی ہے تو حنفی کو حنفی کے طریقے کے مطابق نماز پڑھنی پڑے گی طویل نماز ہماری ہوگی اگر دیگر مسلک کے طریقے پر ہم نے نماز پڑھی تو نماز ہماری نہیں ہوگی یہاں تک کہ دیگر مسلک کے امام ہوں اور مقتدی میں حنفی ہو تب بھی حنفی کی نماز نہیں ہوتی لہذا دور حاضر میں جو یہ کہتے ہیں کہ غوث پاک بھی حنبلی تھے تو ان کے لیے بھی یہ ہیں کہ غوث پاک کی طرح تم نہیں ہو اور ہم حنفی ہیں تو امام اعظم کے دیے ہوئے طریقے کے مطابق ہمیں نماز پڑھنی پڑے گی
اور کسی نہ کسی امام کی پیروی کرنا یہ ضروری ہے جو کسی امام کی پیروی نہیں کرتا اس کو بد مذہب کہا جاتا ہے اور علمائ اہل سنت نے اس کا نام غیر مقلد رکھا ہے اس لیے ایسے بدمزبوں سے بچنا چاہیے اور جس نے بھی اس طریقے سے الفاظ بولے ہوں اس کو اگر ظاہرا یہ کیا ہو تو ظاہرا توبہ کرنا واجب اور اگر خفیہ طور پر رفع دین یہ ہو یا بد مذہبوں کا طریقہ اختیار کیا ہو یا بد مذہبوں کے طریقے کو فالو کیا ہو تو ان کو خفیہ طور پر توبہ کرنا واجب ہے
حکم اگر کوئی ایسا بندہ ہو کہ جو بد مذہبوں کے جو بد مذہبوں کے طریقے کو فالو بھی کرتا ہے اور اس سے وائرل بھی کرتا ہے تو ایسے بندے کو مسجد میں نہ انے دیا جائے اور اس پر کڑے سے کڑی نظر رکھ کر ان کو مسجد سے بھگایا جائے یا پھر اس کو توبہ کروائی جائے اور مسلک اعلی حضرت پر ثابت قدمی سے رہنے کا اسے ذہن دیا جائے اور جو بھی بندہ ایسا کر رہا ہے وہ ضرور یہ بھی کر رہا ہوگا کہ ضروریات دین کے خلاف بھی بولتا ہوگا صحابہ کرام کے گستاخی اولیاء کرام کی گستاخی اور بالخصوص نبی رحمت شفیع امت صفی محشر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخانہ الفاظ بھی بولے ہوں گے تو ان کو تزدید ایمان کرنا اور تذدید نکاح پے کرنا اور تذدید بیعت کرنا ضروری ہے
اللہ پاک ہم سب کو ایسے فتنوں سے بچائے رکھے اور ہمارے علماء اہل سنت کو اس کے خلاف بیانات کے ذریعے اور نصیحت کے ذریعے خوب کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے
Comments
Post a Comment