شان صحابہ

قراٰنِ کریم میں حضور سیِّدُ المُرسلین ، خاتمُ النّبیین  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے پیارے صحابۂ کرام  رضی اللہُ عنہم اجمعین  کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے فتحِ مکّہ سے پہلے ایمان لاکر راہِ خُدامیں مال خرچ کیا اور جہاد کیا ، دوسرے وہ جنہوں نے فتحِ مکہ کے بعد یہ سب کچھ کیا۔ اگرچہ مقام و مرتبہ پہلے والوں ہی کا زیادہ ہے ، لیکن اللہ ربُّ العزت نے ان دونوں جماعتوں سے ہی جنّت کا وعدہ فرمالیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : (لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰))  ترجَمۂ کنزُ الایمان : تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبہ میں اُن سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنّت کا وعدہ فرماچکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔    (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ مبارَکہ میں تمام صحابۂ کرام سے “ اَلْحُسْنٰی “ کا وعدہ فرمایاگیاہے جس کا لفظی معنی “ بھلائی “ ہوتاہےلیکن یہاں اِس بھلائی سے مراد جنّت ہے ، جیسا کہ تفسیر کی معتبر اور مستند کتابوں میں موجود ہے۔ چند حوالے  ملاحظہ ہوں :

(1)تفسیرِ مَعالم ُالتّنزیل (تفسیرِبغوی) میں ہے : اَی : کِلَا  الْفَرِیْقَیْنِ وَعَدَھُمُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ یعنی اللہ تعالیٰ نے دونوں ہی

جماعتوں سے جنّت کا وعدہ فرمالیا ہے۔ 

(2)تفسیرِ مدارِکُ التنزیل (تفسیرِ نسفی) میں ہے : ھِیَ الْجَنَّۃُ مَعَ تَفَاوُتِ الدَّرَجَاتِ یعنی “ الْحُسْنٰی “ سے مراد درجات و مراتب کے فرق کے ساتھ جنّت ہے۔ 

(3)تفسیرِ جلالَین میں ہے : الْجَنَّۃ۔ یعنی “ الْحُسْنٰی “ سے مراد جنّت ہے۔ 

المختصر آیتِ مبارَکہ میں صحابۂ کرام  رضی اللہُ عنہم اجمعین  کا ذکر ہے اورکلمۂ “ کُلًّا “ کا ترجمہ موقع محل کے اعتبار سے سب ، ہر یا تمام ہی کے لفظ سے ہوتاہے اور “ الْحُسْنٰی “ سے مراد جنّت ہے ، لہٰذا شیخِ طریقت ، امیرِ اہلِ سنّت علامہ محمد الیاس قادری  دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ  کی طرف سے اُمّت کو دیا گیا نعرہ “ ہر صحابیِ نبی جنّتی جنّتی “ گویا اس آیت ِ مقدَّسہ کا خوبصورت ترجمان ہے۔

سب صحابہ عادل اوراہل ِخیر ہیں :

نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے تمام صحابہ اہلِ خیر اور عادل ہیں۔ اختصار کے ساتھ تین اکابرینِ اُمّت کے فرامین ملاحظہ ہوں :

(1)شیخُ الاسلام امام محیُّ الدّین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النَوَوی  رحمۃُ اللہِ علیہ  اس عقیدے اورحقیقت کویوں بیان فرماتے ہیں کہ اَلصَّحَابَۃُ کُلُّھُمْ عَدُوْلٌ یعنی سارے صحابہ عادل ہیں۔ 

(2) محقِّقِ اہلِ سنّت شیخ علی بن سلطان اَلقاری  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں : جمہور عُلَما کا یہی موّقِف ہے کہ اَنَّ الصَّحَابَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ کُلَّھُمْ عَدُوْلٌ یعنی تمام ہی صحابۂ کرام عادل ہیں۔ 

 (3)صدرُالشّریعہ مفتی امجدعلی اعظمی  رحمۃُ اللہِ علیہ  اسلامی عقیدہ بیان فرماتے ہیں کہ “ تمام صحابۂ کرام  رضی اللہُ تعالیٰ عنہم  اہلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل ، ان کا جب ذکر کیا جائے توخیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے

اے میرے پیارے عزیزو یہ ہم پر لازم ہے کہ اج کے دور میں تحفظ صحابہ پر ہم پہرےداری کریں کیونکہ اج دین کے دشمن دنیا بھر میں کہیں مقامات پر صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں  گستاخی کرتے کرتے ہوئے نظر اتے ہیں۔ان رافضیوں کو سبق سکھانے اور اپنی بھولے والی قوم کی اصلاح کرنے کے لیے تحفظ ناموس صحابہ پر پہریداری کرنا یہ اس وقت ہماری ہر سانس کے بدلے میں فرض ہو چکا ہے لہذا اے میرے پیارے علماء کرام اپنے سارے اختلافات کو دور کر کے اپنے مسائل کو سائیڈ کر کے یہ بھولی بھالی قوم کو صحیح رہا دکھائے اور جو عقیدہ اہل سنت صحابہ کرام علم الرضوان کے بارے میں ہیں وہ دکھا کر اپنی اخرت کو سنوارنے کی کوشش کرے دنیا اج ہے کل چلے جائے گی اپ کے انا کو رب کی رضا کے لیے فنا کر دیجئے جب یہ ہوگا کہ انا فنا ہو جائے گی تو تحفظ ناموس رسالت ہوں یا تحفظ ناموس صحابہ ہو سب پر پہرہداری کرنے کی مذاہب کچھ اور ائے گی اس لیے اپنی دنیاوی انا کو فنا کر کے رب کی رضا کی خاطر دین کی خدمت میں لگے رہیں انشاءاللہ الکریم ان کی برکت کچھ اور ہی ملے گی 
اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ رب تبارک و تعالی ہمیں خوش دلی کے ساتھ دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حب دنیا سے حب جہاں سے ہم سب کو بچا کر رکھے امین یا رب العالمین

Comments

Popular posts from this blog

راکھی باندھنا حرام ہے

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

जो निकाह पढ़ाए वहीं दस्तखत करे