ڈھرو ناجائز
بعنوان: سامان کی فروخت کے ساتھ قرعہ اندازی (ڈرا) میں عمرہ ٹکٹ یا بڑے انعام کا شرعی حکم
صادر کردہ: دارالافتاء گلزارِ طیبہ
سوال:
آج کل بعض جگہوں پر یہ طریقہ رائج ہے کہ سامان فروخت کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ڈرا (قرعہ اندازی) رکھا جاتا ہے، جس میں عمرہ کا ٹکٹ یا کوئی بڑا انعام دیا جاتا ہے۔ سامان کی قیمت بظاہر وہی ہوتی ہے جو عام طور پر ہوتی ہے، مگر خریدار کے دل میں یہ لالچ ہوتی ہے کہ سامان خریدنے کے عوض اسے عمرہ کا ٹکٹ مل سکتا ہے۔ اس صورت میں بعض علماء یا دینی نسبت رکھنے والے افراد بھی شریک پائے گئے ہیں۔ دریافت یہ ہے کہ اس طرح کا معاملہ شریعتِ مطہرہ کی رو سے کیسا ہے؟
الجواب بعونِ الملک الوہاب:
فقہِ اسلامی اور علمائے اہلِ سنت (فقہِ حنفی) کے مسلمہ اصول کے مطابق:
ہر وہ معاملہ جس میں نفع یا نقصان کا دار و مدار قرعہ، اتفاق یا غیر یقینی امر پر ہو، اور فریقین میں سے کسی کو بلا عوض فائدہ یا محرومی کا احتمال ہو، وہ قِمار (جُوا) ہے، اور قمار شرعاً حرام ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ
(سورۃ المائدہ: 90)
یہاں مَیسر سے مراد جُوا ہے، اور ہر وہ صورت جو اس کے مفہوم میں داخل ہو، شرعاً حرام ہے۔
صورتِ مسئولہ کا شرعی تجزیہ
پوچھی گئی صورت میں درج ذیل امور پائے جاتے ہیں:
خریدار سامان کی حقیقی ضرورت کے بجائے عمرہ ٹکٹ یا بڑے انعام کی لالچ میں خریداری کرتا ہے۔
عمرہ کا ٹکٹ ملنا یا نہ ملنا محض قرعہ اندازی پر موقوف ہے۔
بعض خریدار صرف سامان تک محدود رہ جاتے ہیں جبکہ چند افراد کو بڑا انعام مل جاتا ہے، جو سراسر غیر یقینی نفع ہے۔
خرید و فروخت کو ایسی شرط اور ترغیب کے ساتھ جوڑا گیا ہے جو لوگوں کو جُوا کی طرف مائل کرتی ہے۔
فتاویٰ رضویہ سے صریح رہنمائی
امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں اس نوع کے معاملات کے بارے میں واضح فرماتے ہیں:
وہ تمام خرید و فروخت جن کے ساتھ انعام، قرعہ یا ایسی امید وابستہ ہو جو محض اتفاق پر موقوف ہو اور خریدار کو اسی لالچ میں معاملہ پر آمادہ کیا جائے، وہ قمار کے حکم میں ہے، اگرچہ اس کا نام تجارت یا بیع رکھا جائے۔
نیز فتاویٰ رضویہ میں انعامی ٹکٹ، قرعہ اندازی کے ذریعے فائدہ پہنچانے اور اس قسم کے تمام حیلوں کو جُوا اور ناجائز قرار دیا گیا ہے، خواہ انہیں تحفہ، انعام یا تشہیر کا نام دیا جائے۔
حوالہ:
فتاویٰ رضویہ شریف
جلد 17
کتاب البیوع
باب القمار والمراہنۃ
(رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حتمی فیصلہ
لہٰذا شرعاً یہ امور:
سامان کے ساتھ عمرہ ٹکٹ یا بڑے انعام کا ڈرا لگانا
خریدار کو انعام کی لالچ دے کر سامان فروخت کرنا
قرعہ اندازی کے ذریعے چند افراد کو فائدہ اور اکثر کو محرومی دینا
یہ سب ناجائز، حرام اور قمار (جُوا) کے حکم میں ہیں۔
ایسے معاملے میں شرکت کرنا، اس کی تشہیر کرنا، یا اس کے ذریعے خرید و فروخت کرنا جائز نہیں، بلکہ اس سے بچنا لازم و ضروری ہے، خواہ اس میں کسی عالم یا دینی نسبت رکھنے والے فرد کی شرکت ہی کیوں نہ پائی جائے۔
واللہ اعلم بالصواب
صادر کنندہ:
مفتی: ابو احمد ایم جے اکبری
ادارہ: دارالافتاء گلزارِ طیبہ
Comments
Post a Comment